کون بتلائے کہ کس کو کیا ملا
Laiq Siddiqiکون بتلائے کہ کس کو کیا ملا
جس کی قسمت میں جو لکھا تھا ملا
ترک مے نوشی تو میں نے کی مگر
یہ بتا زاہد کہ تجھ کو کیا ملا
مر مٹی دنیا خوشی کے نام پر
غم نہ کوئی چاہنے والا ملا
فکر میں انداز میں آواز میں
ہر بشر اپنی جگہ تنہا ملا
اب نہیں بے لوث ملنے کا رواج
جو ملا وہ اپنے مطلب کا ملا
سمٹی سمٹی ہر خوشی آئی نظر
بکھرا بکھرا غم کا شیرازہ ملا
بانکپن شاید اسی کا نام ہے
حسن رنگینی میں بھی سادہ ملا
صحن گلشن میں وہ کہلائے گلاب
خون جن پھولوں کو شبنم کا ملا
اپنا ماضی یاد آیا ہے لئیقؔ
زخم دل کو جب کوئی تازہ ملا