سحر نے مسرت کا نغمہ سنایا
Laiq Siddiqiسحر نے مسرت کا نغمہ سنایا
فضا نے گلستاں کا دامن سجایا
ہواؤں نے اخلاق کا گیت گایا
نگاہوں سے ماضی کا پردہ اٹھایا
نیا سال آیا نیا سال آیا
مسرت مسرت کے گن گا رہی ہے
مساوات کے پھول برسا رہی ہے
صدائے سلامت روی آ رہی ہے
زمیں مسکرائی فلک مسکرایا
نیا سال آیا نیا سال آیا
یہ ہندوستاں ایک آواز ہوگا
اب انسان انسان کا دم ساز ہوگا
نئے دور کا پھر سے آغاز ہوگا
نیا سن نئی رت کا پیغام لایا
نیا سال آیا نیا سال آیا
تعصب کی پرچھائیاں اب نہ ہوں گی
وہ پچھلی صف آرائیاں اب نہ ہوں گی
زمانے میں رسوائیاں اب نہ ہوں گی
محبت کا ماحول ہر سمت چھایا
نیا سال آیا نیا سال آیا
نہ آئندہ آپس میں رخنے پڑیں گے
نہ آئندہ اپنی ضدوں پر اڑیں گے
لئیقؔ اب نہ آپس میں انساں لڑیں گے
یکم جنوری نے یہ مژدہ سنایا
نیا سال آیا نیا سال آیا