مجھے تو قید سے اپنی رہائی کیوں نہیں دیتا

Habib.I.Kinkhabwala

مجھے تو قید سے اپنی رہائی کیوں نہیں دیتا

اگر تو ہے جدا تو پھر جدائی کیوں نہیں دیتا

ضرورت کیا مجھے تم کو طبیعت سے بلانے کی

تمہارے دل کہ دھڑکن ہوں سنائی کیوں نہیں دیتا

کسی شیشے کے جیسے کیا کھڑا ہے سامنے میرے

شکایت سن رہا ہے تو صفائی کیوں نہیں دیتا

اگر چھو لے تو پتھر دل پگھل کے موم ہو جائے

ہمارے ہاتھ کو ویسی رسائی کیوں نہیں دیتا

ترے اجڑے مکاں سے ہی بنایا ہے محل اس نے

بدھائی دے رہا ہے تو دہائی کیوں نہیں دیتا