زندگی ناز کرے جس پہ وہ پہچان بنے

Laiq Siddiqi

زندگی ناز کرے جس پہ وہ پہچان بنے

دیکھیے آج کا انسان کب انسان بنے

ایک افسانہ محبت کا لکھا تھا ہم نے

اور دنیا کے لئے سیکڑوں عنوان بنے

صبر اور شکر کی منزل سے وہ گزرا ہی نہیں

جو پریشاں نہ ہوا اور پریشان بنے

کیا کہوں اس کے سوا اور محبت کیا ہے

دل کی رگ رگ میں سما کر وہ مری جان بنے

زندگی میں مری اک ایسا بھی وقت آیا ہے

جاننے والے مجھے دیکھ کے انجان بنے

عشق میں خانۂ دل دونوں کے ویران رہے

مجھ کو مہمان بنایا نہ وہ مہمان بنے

چند کانٹوں کے سوا شاخوں میں رکھا کیا ہے

کون ایسے میں گلستاں کا نگہبان بنے

مل گیا جہد مسلسل کا صلہ مجھ کو لئیقؔ

کل کے غم آج مرے عیش کا سامان بنے