یہ دیکھ زندگی کے لئے ہے پیام کیا

Laiq Siddiqi

یہ دیکھ زندگی کے لئے ہے پیام کیا

دن کیا ہے رات کیا ہے سحر کیا ہے شام کیا

منزل کی جستجو ہے تو چلتے چلے چلو

غربت میں تھوڑی دیر ٹھہر کر قیام کیا

جب نیک اور بد میں نہ رہ جائے امتیاز

ہوگا کسی کا ایسے میں پھر احترام کیا

آپ اپنے دشمنوں کو بھی دشمن نہ جانیے

پڑ جائے کل انہیں سے خدا جانے کام کیا

انسان اپنے آپ کو پہچانتا نہیں

یہ سوچتا نہیں کہ ہے اس کا مقام کیا

دنیائے زندگی میں مساوات چاہئے

اس سلسلہ میں شرط خواص و عوام کیا

دنیا میں کوئی نام اچھوتا نہیں رہا

بدلو گے اپنا نام تو رکھوگے نام کیا

جس حال میں بھی گزرے گزر جائے گی لئیقؔ

تھوڑی سی زندگی کے لئے اہتمام کیا