جور کب تک سہا کرے کوئی

محمود رامپوری

جور کب تک سہا کرے کوئی

صبر کب تک کیا کرے کوئی

کہیں دشمن بھی دوست ہوتے ہیں

تم نہ سمجھو تو کیا کرے کوئی

تم بڑے پارسا سہی لیکن

بد گمانی کو کیا کرے کوئی

دے کے دل تم کو جان سے جاتے

پھر تمہیں لے کے کیا کرے کوئی

دل اگر ہو کسی کا کہنے میں

کیوں کسی کی سنا کرے کوئی

دیں عدو کو دعا وہ جینے کی

مر نہ جائے تو کیا کرے کوئی

کہتے ہیں تجھ سے دل نہیں ملتا

اس کو محمودؔ کیا کرے کوئی