کبھی گردش فلک سے نہ میں بے قرار ہوتا

Jagdish Sahay Saxena

کبھی گردش فلک سے نہ میں بے قرار ہوتا

غم عشق اگر جہاں میں مرا غم گسار ہوتا

تجھے سنگ دل سمجھتا تجھے ظلم پیشہ کہتا

ترے رحم کے جو قابل مرا حال زار ہوتا

میں قدم ہر اک کے لیتا نہ کسی سے بیر رکھتا

جو ازل سے میں غبار سر رہ گزار ہوتا

تری آرزو سے بڑھ کر کوئی آرزو نہیں ہے

یہی آرزو جو ہوتی تو میں کامگار ہوتا

مرے آنسوؤں کے قطرے در شاہوار بنتے

کبھی غم میں دوسروں کے جو میں اشک بار ہوتا

جو قفس میں ہوتے پیدا تو سکون دل کو ملتا

نہ شعور لالہ و گل نہ غم بہار ہوتا