میں نے تمام عمر کا خاکہ نگل لیا
Habib.I.Kinkhabwalaمیں نے تمام عمر کا خاکہ نگل لیا
دو پل کی بھاگ دوڑ میں رستا نگل لیا
روحیں بدن کی قید میں یوں ہو رہیں فنا
جیسے کی گرم ریت نے دریا نگل لیا
آغوش میں چھپا کے ہمیں پوچھتی ہے وہ
سورج نے کیسے چاند کا حصہ نگل لیا
آنکھیں نچوڑنے سے بھی آنسو نہیں گرا
کچھ اس طرح سے آپ کا صدمہ نگل لیا