فرط الم سے آہ کئے جا رہا ہوں میں
Jagdish Sahay Saxenaفرط الم سے آہ کئے جا رہا ہوں میں
اے عشق کیا گناہ کیے جا رہا ہوں میں
مقبول ہوں گے دہر میں داغ جگر مرے
ان کو چراغ راہ کیے جا رہا ہوں میں
رنج و الم کا لطف اٹھانے کے واسطے
راحت سے بھی نباہ کیے جا رہا ہوں میں
گلزار کامرانی و دنیائے آرزو
اعمال سے تباہ کیے جا رہا ہوں میں
مجھ کو عطا ہوا تھا دل آئنہ جمال
صد حیف اسے سیاہ کیے جا رہا ہوں میں
غم کہہ رہا ہے کون ہے مجھے سے سوا عزیز
سب کے دلوں میں راہ کیے جا رہا ہوں میں