ترے میخانے میں ایسے بہت مے خوار بیٹھے ہیں

Jagdish Sahay Saxena

ترے میخانے میں ایسے بہت مے خوار بیٹھے ہیں

مع ہستی جو پی کر ساقیا بیزار بیٹھے ہیں

تڑپتا ہوں تو مجھ کو زندگی کا لطف آتا ہے

نہ جانے سر جھکائے کیوں مرے غم خوار بیٹھے ہیں

نظر آتی ہے برق طور میخانے میں اے زاہد

مگر دیر و حرم میں طالب دیدار بیٹھے ہیں

دل پر داغ کو دیکھو نہ تم چشم حقارت سے

لیے پہلو میں ہم اک گلشن بے خار بیٹھے ہیں

حکومت کی یہ خوبی ہے کہ اپنی خوبیٔ قسمت

ہمارے ملک میں اہل ہنر بیکار بیٹھے ہیں

حرم ہے راہ جنت کی مری جنت ہے مے خانہ

وہاں دیدا بیٹھے ہیں یہاں مے خوار بیٹھے ہیں