کہتا یہی غبار سر رہ گزار ہے
Jagdish Sahay Saxenaکہتا یہی غبار سر رہ گزار ہے
لینا قدم ہر اک کے ہمارا شعار ہے
ہیں دفن اس میں عہد جوانی کی حسرتیں
پہلو میں دل نہیں ہے ہمارے مزار ہے
کانٹے تڑپ رہے ہیں انہیں پوچھتا ہے کون
گل کے لیے ہی باغ میں فصل بہار ہے
دل کو بقدر شوق نہ راحت ملی نہ غم
تقدیر میں غریب کی گل ہے نہ خار ہے
اشک وفا سے گرد کدورت نہ دھل سکی
یعنی تمہارے دل میں ابھی تک غبار ہے