عشق کے اعجاز سے تسکیں کا ساماں ہو گئیں
Jagdish Sahay Saxenaعشق کے اعجاز سے تسکیں کا ساماں ہو گئیں
اب جفائیں بھی نوازش ہائے پنہاں ہو گئیں
اپنی آزادی پہ نازاں ہیں عبث وہ بلبلیں
جو قفس سے دور پابند گلستاں ہو گئیں
اب فقط تیرا تصور ہے کہ دل کے ساتھ ساتھ
آرزوئیں بھی اسیر زلف پیچاں ہو گئیں
گرچہ کالی ہیں بہت شب ہائے تار انتظار
تیرگیٔ بخت سے میرے درخشاں ہو گئیں
باغ عالم میں نئے گل کھل رہے ہیں اے صبا
ان کی زلفیں دوش پر شاید پریشاں ہو گئیں
آہ جن کا حسن کہتا تھا کہ ہم خاکی نہیں
صورتیں وہ خاک کے پردے میں پنہاں ہو گئیں
حسرتوں کو یاس نے بخشی ہے اک تازہ حیات
مٹ گئیں جب داغ دل بن کر نمایاں ہو گئیں