حسرت دل نکل بھی سکتی ہے
Laiq Siddiqiحسرت دل نکل بھی سکتی ہے
زندگی رخ بدل بھی سکتی ہے
رت یکایک بدل بھی سکتی ہے
شاخ امید پھل بھی سکتی ہے
گفتگو لاکھ ہو محبت کی
دوسروں کو وہ کھل بھی سکتی ہے
شمع امید بزم ہستی میں
بجھ بھی سکتی ہے جل بھی سکتی ہے
اپنی تاریخ چھوڑ جائے لئیقؔ
اک ہوا ایسی چل بھی سکتی ہے