دل ناداں یہ الفت کا سفر ہے
Laiq Siddiqiدل ناداں یہ الفت کا سفر ہے
یہاں منزل نہیں بس رہ گزر ہے
گلوں سے باغ میں کہتی ہے شبنم
بہار زندگی نا معتبر ہے
بشر کی زندگی ہے اک علامت
حقیقت میں یہ دنیا کا سفر ہے
ادائے کم نگاہی چھوڑ ساقی
شعور مے پرستاں جوش پر ہے
خوشی پر رنج کو ترجیح دے گا
کسی انسان میں غیرت اگر ہے
چڑھا لیتا ہے جو چہرے پہ چہرہ
وہی اس دور میں اہل ہنر ہے
خبر جس کو نہیں رہتی ہے اپنی
وہی تیری خبر سے باخبر ہے
لئیقؔ اتنا تو تم بھی جانتے ہو
زمانے میں کسے کل کی خبر ہے