وفا سے آشنا کوئی نہیں ہے
Laiq Siddiqiوفا سے آشنا کوئی نہیں ہے
اگرچہ بے وفا کوئی نہیں ہے
خدا ہے اور طوفاں میں سفینہ
ہمارا ناخدا کوئی نہیں ہے
فسانوں کی طرف مائل ہے دنیا
حقیقت آشنا کوئی نہیں ہے
وہاں تک اس بشر کی ہے رسائی
جہاں تیرے سوا کوئی نہیں ہے
بڑھی جاتی ہے اپنی دھن میں دنیا
پلٹ کر دیکھتا کوئی نہیں ہے
ابھی گلشن کا ہے ماحول اچھا
ابھی پتا ہرا کوئی نہیں ہے
محبت خود دوا ہے زندگی کی
محبت کی دوا کوئی نہیں ہے
جنوں کی ابتدا ہے ہوشمندی
جنوں کی انتہا کوئی نہیں ہے
نگاہوں کی حدوں میں صرف تو ہے
نظر میں دوسرا کوئی نہیں ہے
وہ کچھ بھی ہو لئیقؔ انساں نہ ہوگا
اگر اس سے خفا کوئی نہیں ہے