فوٹو کو اس نے پھاڑ کے ٹیبل پہ رکھ دیا

Habib.I.Kinkhabwala

فوٹو کو اس نے پھاڑ کے ٹیبل پہ رکھ دیا

تو میں نے منہ بگاڑ کے ٹیبل پہ رکھ دیا

مدت ہوئی ہے آنکھ سے آنسو نہیں گرا

آنکھوں کو میں نے جھاڑ کے ٹیبل پہ رکھ دیا

جس بات کو ہمیشہ گلے سے لگایا تھا

آخر اسے پچھاڑ کے ٹیبل پہ رکھ دیا

اس نے کہا تھا گل اسے بے حد پسند ہے

میں نے شجر اکھاڑ کے ٹیبل پہ رکھ دیا

محفل میں سب کے پاس تھا کوئی نیا کلام

میں نے پرانا جھاڑ کے ٹیبل پہ رکھ دیا