وگرنہ رات تھی گہری ازل سے
Habib.I.Kinkhabwalaوگرنہ رات تھی گہری ازل سے
نکالا چاند کو ہم نے بغل سے
چلے جس موڑ پر خود کو بدلنے
گئے اس موڑ پر رستے بدل سے
تمہاری راہ میں سوکھے گلوں کو
ہتھیلی پر لیے بیٹھے ہیں کل سے
خدا تو بعد میں آیا مگر ہم
تمہارے ساتھ رہتے ہیں ازل سے
بھلے اب راہ میں کانٹے نہ ہوں گے
ہمارے پاؤں نکلیں گے نہ شل سے