دن ملے رات ملے صبح ملے شام ملے

Laiq Siddiqi

دن ملے رات ملے صبح ملے شام ملے

عشق صادق ہو تو تکلیف میں آرام ملے

دو کنارے کبھی دریا کے نہ مل پائیں گے

کیسے پھر زیست کے آغاز سے انجام ملے

زندگی درد محبت سے سجا رکھی ہے

گھٹ کے مر جاؤں جو دل کو مرے آرام ملے

نظم میخانے کا قائم ہے انہیں سے ساقی

تیرے خم خانے میں جو لوگ تہی جام ملے

سب ہیں بیتاب تری ایک نظر کی خاطر

دیکھیے کس کو محبت میں یہ انعام ملے

میں محبت میں ترے نام سے آگے نہ بڑھا

مجھ کو اس راہ میں ہر چند کئی نام ملے

دشمنوں سے تو کسی جرم کی پائی نہ سند

دوستوں سے مجھے الزام ہی الزام ملے

درد کو اس لئے سینے سے لگا رکھا ہے

حد سے بڑھ جائے تو کچھ جسم کو آرام ملے

اپنی تقدیر پہ وہ ناز کرے کیوں نہ لئیقؔ

جس کو دنیا نہ ملے آپ کا پیغام ملے