Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. عریاں ہی رہے لاش غریب الوطنی میںدھبے مرے عصیاں کے نہ آئیں کفنی میںآغا شاعر قزلباش
  2. کیا خبر تھی راز دل اپنا عیاں ہو جائے گاکیا خبر تھی آہ کا شعلہ زباں ہو جائے گاآغا شاعر قزلباش
  3. کیا کر رہے ہو ظلم کرو راہ راہ کاکہتے ہیں بے جگر ہے بڑا تیر آہ کاآغا شاعر قزلباش
  4. گری گر کر اٹھی پلٹی تو جو کچھ تھا اٹھا لائینظر کیا کیمیا تھی رنگ چہروں سے اڑا لائیآغا شاعر قزلباش
  5. لاکھ لاکھ احسان جس نے درد پیدا کر دیاجس نے اس دل کو ہتھیلی کا پھپھولا کر دیاآغا شاعر قزلباش
  6. مجھ کو آتا ہے تیمم نہ وضو آتا ہےسجدہ کر لیتا ہوں جب سامنے تو آتا ہےآغا شاعر قزلباش
  7. مسکن وہیں کہیں ہے وہیں آشیاں کہیںدو آڑے سیدھے رکھ لیے تنکے جہاں کہیںآغا شاعر قزلباش
  8. میں خودی میں مبتلا خود کو مٹانے کے لیےتو نے تو ہر ذرے کو ضو دی جگمگانے کے لیےآغا شاعر قزلباش
  9. نہ نکلا منہ سے کچھ نکلی نہ کچھ بھی قلب مضطر کیکسی کے سامنے میں بن گیا تصویر پتھر کیآغا شاعر قزلباش
  10. یہ کیسے بال کھولے آئے کیوں صورت بنی غم کیتمہارے دشمنوں کو کیا پڑی تھی میرے ماتم کیآغا شاعر قزلباش
  11. جس نے تجھے خلوت میں بھی تنہا نہیں دیکھااس دیکھنے والے کا کلیجہ نہیں دیکھاآغا شاعر قزلباش
  12. آ گئی سر پر قضا لو سارا ساماں رہ گیااے فلک کیا کیا ہمارے دل میں ارماں رہ گیابھارتیندو ہریش چندر
  13. اٹھا کے ناز سے دامن بھلا کدھر کو چلےادھر تو دیکھیے بہر خدا کدھر کو چلےبھارتیندو ہریش چندر
  14. اسیران قفس صحن چمن کو یاد کرتے ہیںبھلا بلبل پہ یوں بھی ظلم اے صیاد کرتے ہیںبھارتیندو ہریش چندر
  15. بال بکھیرے آج پری تربت پر میرے آئے گیموت بھی میری ایک تماشہ عالم کو دکھلائے گیبھارتیندو ہریش چندر
  16. بیٹھے جو شام سے ترے در پہ سحر ہوئیافسوس اے قمر کہ نہ مطلق خبر ہوئیبھارتیندو ہریش چندر
  17. پھر آئی فصل گل پھر زخم دل رہ رہ کے پکتے ہیںمگر داغ جگر پر صورت لالہ لہکتے ہیںبھارتیندو ہریش چندر
  18. جہاں دیکھو وہاں موجود میرا کرشن پیارا ہےاسی کا سب ہے جلوا جو جہاں میں آشکارا ہےبھارتیندو ہریش چندر
  19. خیال ناوک مژگاں میں بس ہم سر پٹکتے ہیںہمارے دل میں مدت سے یہ خار غم کھٹکتے ہیںبھارتیندو ہریش چندر
  20. دشت پیمائی کا گر قصد مکرر ہوگاہر سر خار پئے آبلہ نشتر ہوگابھارتیندو ہریش چندر
  21. دل آتش ہجراں سے جلانا نہیں اچھااے شعلہ رخو آگ لگانا نہیں اچھابھارتیندو ہریش چندر
  22. رہے نہ ایک بھی بیداد گر ستم باقیرکے نہ ہاتھ ابھی تک ہے دم میں دم باقیبھارتیندو ہریش چندر
  23. عجب جوبن ہے گل پر آمد فصل بہاری ہےشتاب آ ساقیا گل رو کہ تیری یادگاری ہےبھارتیندو ہریش چندر
  24. غضب ہے سرمہ دے کر آج وہ باہر نکلتے ہیںابھی سے کچھ دل مضطر پر اپنے تیر چلتے ہیںبھارتیندو ہریش چندر
  25. گلے مجھ کو لگا لو اے مرے دل دار ہولی میںبجھے دل کی لگی بھی تو اے میرے یار ہولی میںبھارتیندو ہریش چندر
  26. نیند آتی ہی نہیں دھڑکے کی بس آواز سےتنگ آیا ہوں میں اس پرسوز دل کے ساز سےبھارتیندو ہریش چندر
  27. بخت نے پھر مجھے اس سال کھلائی ہولیسوز فرقت سے ز بس مجھ کو نہ بھائی ہولیبھارتیندو ہریش چندر
  28. رحمت کا تیرے امیدوار آیا ہوںمنہ ڈھانپے کفن میں شرمسار آیا ہوںبھارتیندو ہریش چندر
  29. بت کافر جو تو مجھ سے خفا ہونہیں کچھ خوف میرا بھی خدا ہےبھارتیندو ہریش چندر
  30. پھر مجھے لکھنا جو وصف روئے جاناں ہو گیاواجب اس جا پر قلم کو سر جھکانا ہو گیابھارتیندو ہریش چندر
  31. دل مرا تیر ستم گر کا نشانہ ہو گیاآفت جاں میرے حق میں دل لگانا ہو گیابھارتیندو ہریش چندر
  32. فساد دنیا مٹا چکے ہیں حصول ہستی مٹا چکے ہیںخدائی اپنے میں پا چکے ہیں مجھے گلے یہ لگا چکے ہیںبھارتیندو ہریش چندر
  33. جب خاک اڑاتا ہوا نیندوں کا سفر ہوپھر کیوں نہ کسی اور ہی دنیا سے گزر ہوFaisal Hashmi
  34. ترے نشان کو چنتا ہوا میں گلیوں میںنکل گیا ہوں بہت دور ایسے رستوں پرFaisal Hashmi
  35. جو چلتا ہے تو قدموں کی کوئی آہٹ نہیں ہوتیتلاش فرق نیک و بد کی خواہش کو لیے دل میںFaisal Hashmi
  36. جو راہ چھوٹ گئی تھیاسی کا اک کوناFaisal Hashmi
  37. خواب چنتی ہوئی آنکھیں ہیں پرندوں کی طرحاور یہ جسم کہ جیسے کوئی بے برگ شجرFaisal Hashmi
  38. دور تک پھیلے ہوئے ایک گھنے جنگل میںدو شجر کھینچ کے سایوں کو جہاں ملتے ہیںFaisal Hashmi
  39. دیکھتے دیکھتے سب دھند میں تحلیل ہوئےدشت کہسار فلک آب نباتات سبھیFaisal Hashmi
  40. رات کی راہ سے ہٹ کر کسی غم خانے سےچاند چپکے سے نکل آیا تھاFaisal Hashmi
  41. کسی بھی موڑ پہ رک کر جو پیچھے دیکھا ہےتو ایک یاد ملی آنسوؤں میں بھیگی ہوئیFaisal Hashmi
  42. میں اپنے جسم سے باہر نکل کے دیکھوں گایہ کائنات مجھے کس طرح کی لگتی ہےFaisal Hashmi
  43. میں کہ گفتار کا ماہر تھا جہاں دیدہ تھالوگ سنتے تھے مری اور سناتے بھی تھےFaisal Hashmi
  44. یہ ممکن ہےکہ میں تم کو نہ یاد آؤںFaisal Hashmi
  45. اندھیرے دوڑتے ہیں رات کی ویران آنکھوں میںچراغوں کی جڑوں سے روشنی کا خون رستا ہےFaisal Hashmi
  46. بادلوں کے خون سے چپکی ہوئی اس شام میںاڑ رہے تھےFaisal Hashmi
  47. پہاڑوں میں گھری وادی کی بلکھاتی ہوئی سڑکیںگزرتے موڑ پر جھکتی ہوئی شاخوں سے پوچھیں گیFaisal Hashmi
  48. جسم کی آگ کہاں بجھتی ہےلوگ کس وقت محبت کا نشہ سونگھتے ہیںFaisal Hashmi
  49. تمہیں معلوم ہے جب بھیپرانے یارFaisal Hashmi
  50. جسم بے جان ہے پتھر سی بنی ہیں آنکھیںاور اک خوف کا ملبوس پہن کر کوئیFaisal Hashmi