Poetry
Poet
Meter
- عریاں ہی رہے لاش غریب الوطنی میںدھبے مرے عصیاں کے نہ آئیں کفنی میںآغا شاعر قزلباش
- کیا خبر تھی راز دل اپنا عیاں ہو جائے گاکیا خبر تھی آہ کا شعلہ زباں ہو جائے گاآغا شاعر قزلباش
- کیا کر رہے ہو ظلم کرو راہ راہ کاکہتے ہیں بے جگر ہے بڑا تیر آہ کاآغا شاعر قزلباش
- گری گر کر اٹھی پلٹی تو جو کچھ تھا اٹھا لائینظر کیا کیمیا تھی رنگ چہروں سے اڑا لائیآغا شاعر قزلباش
- لاکھ لاکھ احسان جس نے درد پیدا کر دیاجس نے اس دل کو ہتھیلی کا پھپھولا کر دیاآغا شاعر قزلباش
- مجھ کو آتا ہے تیمم نہ وضو آتا ہےسجدہ کر لیتا ہوں جب سامنے تو آتا ہےآغا شاعر قزلباش
- مسکن وہیں کہیں ہے وہیں آشیاں کہیںدو آڑے سیدھے رکھ لیے تنکے جہاں کہیںآغا شاعر قزلباش
- میں خودی میں مبتلا خود کو مٹانے کے لیےتو نے تو ہر ذرے کو ضو دی جگمگانے کے لیےآغا شاعر قزلباش
- نہ نکلا منہ سے کچھ نکلی نہ کچھ بھی قلب مضطر کیکسی کے سامنے میں بن گیا تصویر پتھر کیآغا شاعر قزلباش
- یہ کیسے بال کھولے آئے کیوں صورت بنی غم کیتمہارے دشمنوں کو کیا پڑی تھی میرے ماتم کیآغا شاعر قزلباش
- جس نے تجھے خلوت میں بھی تنہا نہیں دیکھااس دیکھنے والے کا کلیجہ نہیں دیکھاآغا شاعر قزلباش
- آ گئی سر پر قضا لو سارا ساماں رہ گیااے فلک کیا کیا ہمارے دل میں ارماں رہ گیابھارتیندو ہریش چندر
- اٹھا کے ناز سے دامن بھلا کدھر کو چلےادھر تو دیکھیے بہر خدا کدھر کو چلےبھارتیندو ہریش چندر
- اسیران قفس صحن چمن کو یاد کرتے ہیںبھلا بلبل پہ یوں بھی ظلم اے صیاد کرتے ہیںبھارتیندو ہریش چندر
- بال بکھیرے آج پری تربت پر میرے آئے گیموت بھی میری ایک تماشہ عالم کو دکھلائے گیبھارتیندو ہریش چندر
- بیٹھے جو شام سے ترے در پہ سحر ہوئیافسوس اے قمر کہ نہ مطلق خبر ہوئیبھارتیندو ہریش چندر
- پھر آئی فصل گل پھر زخم دل رہ رہ کے پکتے ہیںمگر داغ جگر پر صورت لالہ لہکتے ہیںبھارتیندو ہریش چندر
- جہاں دیکھو وہاں موجود میرا کرشن پیارا ہےاسی کا سب ہے جلوا جو جہاں میں آشکارا ہےبھارتیندو ہریش چندر
- خیال ناوک مژگاں میں بس ہم سر پٹکتے ہیںہمارے دل میں مدت سے یہ خار غم کھٹکتے ہیںبھارتیندو ہریش چندر
- دشت پیمائی کا گر قصد مکرر ہوگاہر سر خار پئے آبلہ نشتر ہوگابھارتیندو ہریش چندر
- دل آتش ہجراں سے جلانا نہیں اچھااے شعلہ رخو آگ لگانا نہیں اچھابھارتیندو ہریش چندر
- رہے نہ ایک بھی بیداد گر ستم باقیرکے نہ ہاتھ ابھی تک ہے دم میں دم باقیبھارتیندو ہریش چندر
- عجب جوبن ہے گل پر آمد فصل بہاری ہےشتاب آ ساقیا گل رو کہ تیری یادگاری ہےبھارتیندو ہریش چندر
- غضب ہے سرمہ دے کر آج وہ باہر نکلتے ہیںابھی سے کچھ دل مضطر پر اپنے تیر چلتے ہیںبھارتیندو ہریش چندر
- گلے مجھ کو لگا لو اے مرے دل دار ہولی میںبجھے دل کی لگی بھی تو اے میرے یار ہولی میںبھارتیندو ہریش چندر
- نیند آتی ہی نہیں دھڑکے کی بس آواز سےتنگ آیا ہوں میں اس پرسوز دل کے ساز سےبھارتیندو ہریش چندر
- بخت نے پھر مجھے اس سال کھلائی ہولیسوز فرقت سے ز بس مجھ کو نہ بھائی ہولیبھارتیندو ہریش چندر
- رحمت کا تیرے امیدوار آیا ہوںمنہ ڈھانپے کفن میں شرمسار آیا ہوںبھارتیندو ہریش چندر
- بت کافر جو تو مجھ سے خفا ہونہیں کچھ خوف میرا بھی خدا ہےبھارتیندو ہریش چندر
- پھر مجھے لکھنا جو وصف روئے جاناں ہو گیاواجب اس جا پر قلم کو سر جھکانا ہو گیابھارتیندو ہریش چندر
- دل مرا تیر ستم گر کا نشانہ ہو گیاآفت جاں میرے حق میں دل لگانا ہو گیابھارتیندو ہریش چندر
- فساد دنیا مٹا چکے ہیں حصول ہستی مٹا چکے ہیںخدائی اپنے میں پا چکے ہیں مجھے گلے یہ لگا چکے ہیںبھارتیندو ہریش چندر
- جب خاک اڑاتا ہوا نیندوں کا سفر ہوپھر کیوں نہ کسی اور ہی دنیا سے گزر ہوFaisal Hashmi
- ترے نشان کو چنتا ہوا میں گلیوں میںنکل گیا ہوں بہت دور ایسے رستوں پرFaisal Hashmi
- جو چلتا ہے تو قدموں کی کوئی آہٹ نہیں ہوتیتلاش فرق نیک و بد کی خواہش کو لیے دل میںFaisal Hashmi
- جو راہ چھوٹ گئی تھیاسی کا اک کوناFaisal Hashmi
- خواب چنتی ہوئی آنکھیں ہیں پرندوں کی طرحاور یہ جسم کہ جیسے کوئی بے برگ شجرFaisal Hashmi
- دور تک پھیلے ہوئے ایک گھنے جنگل میںدو شجر کھینچ کے سایوں کو جہاں ملتے ہیںFaisal Hashmi
- دیکھتے دیکھتے سب دھند میں تحلیل ہوئےدشت کہسار فلک آب نباتات سبھیFaisal Hashmi
- رات کی راہ سے ہٹ کر کسی غم خانے سےچاند چپکے سے نکل آیا تھاFaisal Hashmi
- کسی بھی موڑ پہ رک کر جو پیچھے دیکھا ہےتو ایک یاد ملی آنسوؤں میں بھیگی ہوئیFaisal Hashmi
- میں اپنے جسم سے باہر نکل کے دیکھوں گایہ کائنات مجھے کس طرح کی لگتی ہےFaisal Hashmi
- میں کہ گفتار کا ماہر تھا جہاں دیدہ تھالوگ سنتے تھے مری اور سناتے بھی تھےFaisal Hashmi
- یہ ممکن ہےکہ میں تم کو نہ یاد آؤںFaisal Hashmi
- اندھیرے دوڑتے ہیں رات کی ویران آنکھوں میںچراغوں کی جڑوں سے روشنی کا خون رستا ہےFaisal Hashmi
- بادلوں کے خون سے چپکی ہوئی اس شام میںاڑ رہے تھےFaisal Hashmi
- پہاڑوں میں گھری وادی کی بلکھاتی ہوئی سڑکیںگزرتے موڑ پر جھکتی ہوئی شاخوں سے پوچھیں گیFaisal Hashmi
- جسم کی آگ کہاں بجھتی ہےلوگ کس وقت محبت کا نشہ سونگھتے ہیںFaisal Hashmi
- تمہیں معلوم ہے جب بھیپرانے یارFaisal Hashmi
- جسم بے جان ہے پتھر سی بنی ہیں آنکھیںاور اک خوف کا ملبوس پہن کر کوئیFaisal Hashmi