جسم بے جان ہے پتھر سی بنی ہیں آنکھیں

Faisal Hashmi

جسم بے جان ہے پتھر سی بنی ہیں آنکھیں

اور اک خوف کا ملبوس پہن کر کوئی

گھورتا رہتا ہے

ہر وقت خلا میں شاید

آئینہ خانوں کی

مقہور نما چاہت میں

عکس در عکس بکھرتی ہوئی پرچھائیاں ہیں

اور سناٹوں کی

گمبھیر صدا ہے ہر سو

شاخ در شاخ خزاں نوحہ کناں ہے ہر سو

ایسے ماحول میں جینا بھی ہے

خواب کے آخری حصے میں

حسین ابن علی

ایک پیغام یہی دے کے گزر جاتے ہیں