اندھیرے دوڑتے ہیں رات کی ویران آنکھوں میں
Faisal Hashmiاندھیرے دوڑتے ہیں رات کی ویران آنکھوں میں
چراغوں کی جڑوں سے روشنی کا خون رستا ہے
سمندر کشتیوں میں
چھید کرتی مچھلیوں سے بھر گئے آخر
مسافر منزلوں کی خواہشوں سے ڈر گئے آخر
صدا اس قید گہہ سے
بھاگ جانے کی کڑی کوشش میں زخمی ہے
زمیں فالج زدہ ہونٹوں کی جنبش سے
ٹھہر جانے کو شاید کہہ رہی ہے
ہوا کی سانس ٹھوکر کھا رہی ہے