دیکھتے دیکھتے سب دھند میں تحلیل ہوئے
Faisal Hashmiدیکھتے دیکھتے سب دھند میں تحلیل ہوئے
دشت کہسار فلک آب نباتات سبھی
بلڈنگیں چھوٹی بڑی دور تلک پھیلے گھر
اکا دکا جو کہیں لوگ نظر آتے تھے
وہ بھی مشغول تھے
بے روح سی سرگرمی میں
ہر کوئی نوحہ کناں تھا کہ پرانی صدیاں
بوڑھی تہذیب کو دفنا کے ابھی لوٹی ہیں
اور اب ڈھونڈھتی ہیں
ان دیکھے کھنڈر کو شاید
کیسا گمبھیر سفر ختم ہوا آخر کار
کیسی افتاد پڑی اہل زمیں آج کے دن
ہم کہ آغاز تھے انجام کی تمثیل ہوئے
دیکھتے دیکھتے ہم دھند میں تحلیل ہوئے