Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. دیکھی جو زلف یار طبیعت سنبھل گئیآئی ہوئی بلا مرے سر پر سے ٹل گئیمرزارضا برق
  2. رنگ سے پیرہن سادہ حنائی ہو جائےپہنے زنجیر جو چاندی کی طلائی ہو جائےمرزارضا برق
  3. زیر زمیں ہوں تشنۂ دیدار یار کاعالم وہی ہے آج تلک انتظار کامرزارضا برق
  4. شمع بھی اس صفا سے جلتی ہےتیرے رخ پر نگہ پھسلتی ہےمرزارضا برق
  5. قمر کی وہ خورشید تصویر ہےگلے میں ستاروں کی زنجیر ہےمرزارضا برق
  6. کس طرح ملیں کوئی بہانا نہیں ملتاہم جا نہیں سکتے انہیں آنا نہیں ملتامرزارضا برق
  7. گیا شباب نہ پیغام وصل یار آیاجلا دو کاٹ کے اس نخل میں نہ بار آیامرزارضا برق
  8. لاکھ پردے سے رخ انور عیاں ہو جائے گاپردہ کھل جائے گا ہر پردہ کتاں ہو جائے گامرزارضا برق
  9. لب رنگیں سے اگر تو گہر افشاں ہوتالکھنؤ لعلوں کے معدن سے بدخشاں ہوتامرزارضا برق
  10. مثال تار نظر کیا نظر نہیں آتاکبھی خیال میں موئے کمر نہیں آتامرزارضا برق
  11. مطلب نہ کعبہ سے نہ ارادہ کنشت کاپابند یہ فقیر نہیں سنگ و خشت کامرزارضا برق
  12. میں اگر رونے لگوں رتبۂ والا بڑھ جائےپانی دینے سے نہال قد بالا بڑھ جائےمرزارضا برق
  13. نہ رہے نامہ و پیغام کے لانے والےخاک کے نیچے گئے عرش کے جانے والےمرزارضا برق
  14. نہ کوئی ان کے سوا اور جان جاں دیکھاوہی وہی نظر آئے گا جہاں جہاں دیکھامرزارضا برق
  15. وحشت میں بھی رخ جانب صحرا نہ کریں گےجب تک کہ تمہیں شہر میں رسوا نہ کریں گےمرزارضا برق
  16. وہ شاہ حسن جو بے مثل ہے حسینوں میںکبھی فقیر بھی تھا ان کے ہم نشینوں میںمرزارضا برق
  17. اثر زلف کا برملا ہو گیابلاؤں سے مل کر بلا ہو گیامرزارضا برق
  18. چاند سا چہرہ جو اس کا آشکارا ہو گیاتن پہ ہر قطرہ پسینہ کا شرارا ہو گیامرزارضا برق
  19. اٹھی ہے جب سے دل میں مرے عشق کی ترنگشادی و غم ہیں آگے مرے دونوں ایک رنگشاہ آثم
  20. اس دل میں اگر جلوۂ دل دار نہ ہوتازنہار یہ دل مظہر اسرار نہ ہوتاشاہ آثم
  21. اسلام اور کفر ہمارا ہی نام ہےکعبہ کنشت دونوں میں اپنا مقام ہےشاہ آثم
  22. افسانہ مرے دل کا دل آزار سے کہہ دوبلبل کے ذرا درد کو گلزار سے کہہ دوشاہ آثم
  23. بندۂ عشق ہوں جز یار مجھے کام نہیںخواہش ننگ نہیں کچھ ہوس نام نہیںشاہ آثم
  24. بہ چشم حقیقت جہاں دیکھتا ہوںمیں جاناں کا جلوہ عیاں دیکھتا ہوںشاہ آثم
  25. بے خودی میں عجب مزا دیکھاسر مخفی کو برملا دیکھاشاہ آثم
  26. دستیاب اس کو ہوا جب سے ہے گلدستۂ داغبلبل دل کا نہیں ملتا ہے زنہار دماغشاہ آثم
  27. سن لیوے اگر تو مری دل دار کی آوازہرگز نہ سنے پھر کبھوں مزمار کی آوازشاہ آثم
  28. شکل جانانہ جا بجا ہیں ہمکہیں ناز اور کہیں ادا ہیں ہمشاہ آثم
  29. عاشق زار ہوں جز عشق مجھے کام نہیںطالب کفر نہیں تابع اسلام نہیںشاہ آثم
  30. عجب تو نے جلوہ دکھایا مجھےکہ عالم میں پھر کچھ نہ بھایا مجھےشاہ آثم
  31. عشق کے اقلیم میں چال و چلن کچھ اور ہےہے نرالا ڈھنگ واں کا اور عجائب طور ہےشاہ آثم
  32. قید دل سے ہے مری کاکل پیچاں نازاںاور مرے قتل سے ہے خنجر مژگاں نازاںشاہ آثم
  33. کون و مکاں میں یارو آباد ہیں تو ہم ہیںاس ارض اور سما کی بنیاد ہیں تو ہم ہیںشاہ آثم
  34. کوئی دم تھمتا نہیں باران اشکالاماں از چشم پر طوفان اشکشاہ آثم
  35. کیا کہوں تم سے میں یارو کون ہوںہوں سراپا قیس صحرائے جنوںشاہ آثم
  36. لشکر عشق آ پڑا ہے ملک دل پر ٹوٹ ٹوٹکان میں آتی نہیں ہے جز صدائے لوٹ لوٹشاہ آثم
  37. مجھے ساقیٔ چشم یار نے عجب ایک جام پلا دیاکہ نشہ نے جس کے غم جہاں مرے دل سے صاف بھلا دیاشاہ آثم
  38. ہے دل کو میرے عارض جاناں سے ارتباطبلبل کو جس طرح ہو گلستاں سے ارتباطشاہ آثم
  39. ہے عیاں روئے یار آنکھوں میںچھائی ہے کیا بہار آنکھوں میںشاہ آثم
  40. ہے فنا بسم اللہ دیوان عشقآفرینہا بر سبق خوانان عشقشاہ آثم
  41. انس اپنے میں کہیں پایا نہ بیگانے میں تھاکیا نشہ ہے سارا عالم ایک پیمانے میں تھاآغا شاعر قزلباش
  42. بتوں کے واسطے تو دین و ایماں بیچ ڈالے ہیںیہ وہ معشوق ہیں جو ہم نے کعبے سے نکالے ہیںآغا شاعر قزلباش
  43. بہار آئی ہے پھر چمن میں نسیم اٹھلا کے چل رہی ہےہر ایک غنچہ چٹک رہا ہے گلوں کی رنگت بدل رہی ہےآغا شاعر قزلباش
  44. جان دیتے ہی بنی عشق کے دیوانے سےشمع کا حال نہ دیکھا گیا پروانے سےآغا شاعر قزلباش
  45. چلے گا نہیں مجھ پہ فقرا تمہاراہٹا لو کہ خنجر ہے جھوٹا تمہاراآغا شاعر قزلباش
  46. دل سرد ہو گیا ہے طبیعت بجھی ہوئیاب کیا ہے وہ اتر گئی ندی چڑھی ہوئیآغا شاعر قزلباش
  47. ذرہ بھی اگر رنگ خدائی نہیں دیتااندھا ہے تجھے کچھ بھی دکھائی نہیں دیتاآغا شاعر قزلباش
  48. رخسار کے پرتو سے بجلی کی نئی دھج ہےکیوں آنکھ جھپکتی ہے کیا سامنے سورج ہےآغا شاعر قزلباش
  49. رونے سے جو بھڑاس تھی دل کی نکل گئیآنسو بہائے چار طبیعت سنبھل گئیآغا شاعر قزلباش
  50. شاعر رنگیں فسانہ ہو گیاشعر بلبل کا ترانہ ہو گیاآغا شاعر قزلباش