تمہیں معلوم ہے جب بھی

Faisal Hashmi

تمہیں معلوم ہے جب بھی

پرانے یار

گلیوں کی

یوں ہی بے سود باتوں میں

کئی گھنٹوں کی

بے مصرف

نشست رائیگاں کو

یاد کرتے ہیں

تو کتنا لطف آتا ہے

پرانے گھر میں گزرے پل

اور ان میں

سب کہی اور ان کہی

باتوں کو جب دہرایا جاتا ہے

تو کتنا لطف آتا ہے

تمہیں معلوم ہے جب اس طرح کے

ان گنت لمحے

جنہیں ہم یاد کرتے ہیں

جنہیں ہم ڈھونڈتے ہیں

زندگی کی ہر اداسی میں

مقید ہیں گھڑی کے عین مرکز میں

رواں ان سوئیوں کی

بے صلہ بے کار حرکت میں

تمہیں معلوم ہے جب بھی مجھے ان کی ضرورت تھی

تو میں نے وقت سے

ان آخری ایام میں اتنی گزارش کی

مجھے دے دو وہ سب لمحے

کہ اب ان کی ضرورت ہے

تو وہ مجھ سے یہی کہتا

کئی لمحے

کلائیوں پر بندھی گھڑیوں سے باہر ہیں

انہیں میں کیسے واپس دوں

انہیں میں کیسے لوٹا دوں