جب خاک اڑاتا ہوا نیندوں کا سفر ہو
Faisal Hashmiجب خاک اڑاتا ہوا نیندوں کا سفر ہو
پھر کیوں نہ کسی اور ہی دنیا سے گزر ہو
وہ میرے برابر سے نکل آیہ تھا ورنہ
دیوار نہ تھی ایسی کہ جس میں کوئی در ہو
میں جسم سے گزرا ہوں یہی سوچ کے اکثر
شاید کہ تری روح کا اس راہ میں گھر ہو
یہ کیسی تمنا ہے کہ اس دشت میں فیصلؔ
دریا ہو کنارہ ہو سفینہ ہو بھنور ہو