Poetry
Poet
Meter
- روز اس آس پہ دروازہ کھلا رکھتا ہوںشاید آ جائے وہ چپکے سے کبھی اس جانبFaisal Hashmi
- کوئی ذی روح نہ تھااطراف میں ویرانی تھیFaisal Hashmi
- میں یہی سوچ کےکل رات نہیں سویا اگرFaisal Hashmi
- آبرو الفت میں اگر چاہئےرکھنی سدا چشم کو تر چاہئےغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
- آنکھوں کا خدا ہی ہے یہ آنسو کی ہے گر موجکشتی بچے کیوں کر جو رہے آٹھ پہر موجغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
- آئنہ ہے یہ جہاں اس میں جمال اپنا ہےصورت غیر کہاں ہے یہ خیال اپنا ہےغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
- اس شوخ سے کیا کیجئے اظہار تمنایہ لوگ کوئی سنتے ہیں گفتار تمناغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
- اشک آنکھوں کے اندر نہ رہا ہے نہ رہے گایہ طفل ہے ابتر نہ رہا ہے نہ رہے گاغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
- بعد مکیں مکاں کا گر بام رہا تو کیا ہواآپ ہی جب رہے نہیں نام رہا تو کیا ہواغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
- ٹک دیکھیو یہ ابروئے خم دار وہی ہےکشتہ ہوں میں جس کا سو یہ تروار وہی ہےغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
- جب سے گیا ہے وہ مرا ایمان زندگیکافر ہو جس کے دل میں ہو ارمان زندگیغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
- جو یوں آپ بیرون در جائیں گےخدا جانے کس کس کے گھر جائیں گےغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
- جہاں میں کہاں باہم الفت رہی ہےمگر صرف صاحب سلامت رہی ہےغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
- دل بہ از کعبہ ہے یاراں جبہ سائی چاہیےہے خدا کا گھر یہی لیکن صفائی چاہیےغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
- شجر باغ جہاں کا تھا جہاں تک سب ثمر لایامگر اک نخل آہ اس میں نہ ہم نے کچھ اثر پایاغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
- عمر گئی الفت زر جی سے الٰہی نہ گئیمو سفید ہو گئے پر دل کی سیاسی نہ گئیغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
- غیر آئے پیچھے پا گئے مجرے کا بار پہلےہم آہ بیٹھے رہ گئے آئے ہزار پہلےغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
- کیا رفو کرنے لگا ہے جا بھی ناداں یک طرفپھٹ چلی چھاتی کوئی دم میں گریباں یک طرفغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
- گلعذار اور بھی یوں رکھتے ہیں رنگ اور نمکپر مرے یار کے چہرے کا سا ڈھنگ اور نمکغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
- مجھ سے مڑنے کی نیں کسی رو سےچشم رکھتا ہوں تیری ابرو سےغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
- محزوں نہ ہو حضورؔ اب آتا ہے یار اپناکرتا ہے فضل تجھ پر پروردگار اپناغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
- ہر شجر کے تئیں ہوتا ہے ثمر سے پیوندآہ کو کیوں نہیں ہوتا ہے اثر سے پیوندغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
- یوں تو دل ہر کدام رکھتا ہےاہل دل ہونا کام رکھتا ہےغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
- یہ دل ہی جلوہ گاہ ہے اس خوش خرام کادیکھا تو صرف نام ہے بیت الحرام کاغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
- اسی کے دم پہ تو یہ دوستی بچی ہوئی تھیہمارے بیچ میں جو ہم سری بچی ہوئی تھیLiaqat Jafri
- پڑے پڑے نئی زر خیزیاں نکل آئیںکٹے درخت میں پھر ٹہنیاں نکل آئیںLiaqat Jafri
- تمہیں اب اس سے زیادہ سزا نہیں دوں گادعائیں دوں گا مگر بد دعا نہیں دوں گاLiaqat Jafri
- حالانکہ پہلے دن سے کہا جا رہا ہوں میںلیکن کہاں کسی کو سنا جا رہا ہوں میںLiaqat Jafri
- خامشی کو صدا میں رکھا گیاایک جادو ہوا میں رکھا گیاLiaqat Jafri
- رونق دامن صد چاک کہاں سے لائیںشہر میں دشت کی پوشاک کہاں سے لائیںLiaqat Jafri
- سر پہ سجنے کو جو تیار ہے میرے اندرگرد آلود سی دستار ہے میرے اندرLiaqat Jafri
- عجیب لوگ تھے وہ تتلیاں بناتے تھےسمندروں کے لیے سیپیاں بناتے تھےLiaqat Jafri
- کتنا دشوار ہے جذبوں کی تجارت کرناایک ہی شخص سے دو بار محبت کرناLiaqat Jafri
- کسی گرداب کی پھینکی پڑی ہےلب ساحل جو اک کشتی پڑی ہےLiaqat Jafri
- کوئی سمجھاؤ دریا کی روانی کاٹتی ہےکہ میرے سانس کو تشنہ دہانی کاٹتی ہےLiaqat Jafri
- مرے وجود ابھی ناتواں نہیں ہوناپھر اس کے بعد یہ موسم جواں نہیں ہوناLiaqat Jafri
- مسلسل اشک باری کر رہا تھامیں اپنی آبیاری کر رہا تھاLiaqat Jafri
- مسلم ہوں پر خود پہ قابو رہتا ہےمیرے اندر بھی اک ہندو رہتا ہےLiaqat Jafri
- ایک آسیب تعاقب میں لگا رہتا ہےمیں جو رکتا ہوں تو پھر اس کی صدا چلتی ہےLiaqat Jafri
- جہاں جو تھا وہیں رہنا تھا اس کومگر یہ لوگ ہجرت کر رہے ہیںLiaqat Jafri
- عشق تو نے بڑا نقصان کیا ہے میرامیں تو اس شخص سے نفرت بھی نہیں کر سکتاLiaqat Jafri
- لفظ کو الہام معنی کو شرر سمجھا تھا میںدرحقیقت عیب تھا جس کو ہنر سمجھا تھا میںLiaqat Jafri
- میری جانب نہ بڑھنا اب محبتمیں اب پہلے سے مشکل راستا ہوںLiaqat Jafri
- میں بہت جلد لوٹ آؤں گاتم مرا انتظار مت کرناLiaqat Jafri
- میں دوڑ دوڑ کے خود کو پکڑ کے لاتا ہوںتمہارے عشق نے بچا بنا دیا ہے مجھےLiaqat Jafri
- آپ دل کھول کر بیداد پہ بیداد کریںاور ہم ضبط سے لیں کام نہ فریاد کریںمیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
- آخر نہ چلی کوئی بھی تدبیر ہماریبن بن کے بگڑنے لگی تقدیر ہماریمیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
- اچھا ہوا یہ وقت تو آنا ضرور تھامدت سے کش مکش میں دل ناصبور تھامیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
- الفت عارض لیلیٰ میں پریشاں نکلاقیس مانند سحر چاک گریباں نکلامیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
- ختم ہوگا اب سفر پیش نظر ہے روئے دوستآ رہی ہے آج کی منزل سے مجھ کو بوئے دوستمیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی