Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. روز اس آس پہ دروازہ کھلا رکھتا ہوںشاید آ جائے وہ چپکے سے کبھی اس جانبFaisal Hashmi
  2. کوئی ذی روح نہ تھااطراف میں ویرانی تھیFaisal Hashmi
  3. میں یہی سوچ کےکل رات نہیں سویا اگرFaisal Hashmi
  4. آبرو الفت میں اگر چاہئےرکھنی سدا چشم کو تر چاہئےغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
  5. آنکھوں کا خدا ہی ہے یہ آنسو کی ہے گر موجکشتی بچے کیوں کر جو رہے آٹھ پہر موجغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
  6. آئنہ ہے یہ جہاں اس میں جمال اپنا ہےصورت غیر کہاں ہے یہ خیال اپنا ہےغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
  7. اس شوخ سے کیا کیجئے اظہار تمنایہ لوگ کوئی سنتے ہیں گفتار تمناغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
  8. اشک آنکھوں کے اندر نہ رہا ہے نہ رہے گایہ طفل ہے ابتر نہ رہا ہے نہ رہے گاغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
  9. بعد مکیں مکاں کا گر بام رہا تو کیا ہواآپ ہی جب رہے نہیں نام رہا تو کیا ہواغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
  10. ٹک دیکھیو یہ ابروئے خم دار وہی ہےکشتہ ہوں میں جس کا سو یہ تروار وہی ہےغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
  11. جب سے گیا ہے وہ مرا ایمان زندگیکافر ہو جس کے دل میں ہو ارمان زندگیغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
  12. جو یوں آپ بیرون در جائیں گےخدا جانے کس کس کے گھر جائیں گےغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
  13. جہاں میں کہاں باہم الفت رہی ہےمگر صرف صاحب سلامت رہی ہےغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
  14. دل بہ از کعبہ ہے یاراں جبہ سائی چاہیےہے خدا کا گھر یہی لیکن صفائی چاہیےغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
  15. شجر باغ جہاں کا تھا جہاں تک سب ثمر لایامگر اک نخل آہ اس میں نہ ہم نے کچھ اثر پایاغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
  16. عمر گئی الفت زر جی سے الٰہی نہ گئیمو سفید ہو گئے پر دل کی سیاسی نہ گئیغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
  17. غیر آئے پیچھے پا گئے مجرے کا بار پہلےہم آہ بیٹھے رہ گئے آئے ہزار پہلےغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
  18. کیا رفو کرنے لگا ہے جا بھی ناداں یک طرفپھٹ چلی چھاتی کوئی دم میں گریباں یک طرفغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
  19. گلعذار اور بھی یوں رکھتے ہیں رنگ اور نمکپر مرے یار کے چہرے کا سا ڈھنگ اور نمکغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
  20. مجھ سے مڑنے کی نیں کسی رو سےچشم رکھتا ہوں تیری ابرو سےغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
  21. محزوں نہ ہو حضورؔ اب آتا ہے یار اپناکرتا ہے فضل تجھ پر پروردگار اپناغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
  22. ہر شجر کے تئیں ہوتا ہے ثمر سے پیوندآہ کو کیوں نہیں ہوتا ہے اثر سے پیوندغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
  23. یوں تو دل ہر کدام رکھتا ہےاہل دل ہونا کام رکھتا ہےغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
  24. یہ دل ہی جلوہ گاہ ہے اس خوش خرام کادیکھا تو صرف نام ہے بیت الحرام کاغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
  25. اسی کے دم پہ تو یہ دوستی بچی ہوئی تھیہمارے بیچ میں جو ہم سری بچی ہوئی تھیLiaqat Jafri
  26. پڑے پڑے نئی زر خیزیاں نکل آئیںکٹے درخت میں پھر ٹہنیاں نکل آئیںLiaqat Jafri
  27. تمہیں اب اس سے زیادہ سزا نہیں دوں گادعائیں دوں گا مگر بد دعا نہیں دوں گاLiaqat Jafri
  28. حالانکہ پہلے دن سے کہا جا رہا ہوں میںلیکن کہاں کسی کو سنا جا رہا ہوں میںLiaqat Jafri
  29. خامشی کو صدا میں رکھا گیاایک جادو ہوا میں رکھا گیاLiaqat Jafri
  30. رونق دامن صد چاک کہاں سے لائیںشہر میں دشت کی پوشاک کہاں سے لائیںLiaqat Jafri
  31. سر پہ سجنے کو جو تیار ہے میرے اندرگرد آلود سی دستار ہے میرے اندرLiaqat Jafri
  32. عجیب لوگ تھے وہ تتلیاں بناتے تھےسمندروں کے لیے سیپیاں بناتے تھےLiaqat Jafri
  33. کتنا دشوار ہے جذبوں کی تجارت کرناایک ہی شخص سے دو بار محبت کرناLiaqat Jafri
  34. کسی گرداب کی پھینکی پڑی ہےلب ساحل جو اک کشتی پڑی ہےLiaqat Jafri
  35. کوئی سمجھاؤ دریا کی روانی کاٹتی ہےکہ میرے سانس کو تشنہ دہانی کاٹتی ہےLiaqat Jafri
  36. مرے وجود ابھی ناتواں نہیں ہوناپھر اس کے بعد یہ موسم جواں نہیں ہوناLiaqat Jafri
  37. مسلسل اشک باری کر رہا تھامیں اپنی آبیاری کر رہا تھاLiaqat Jafri
  38. مسلم ہوں پر خود پہ قابو رہتا ہےمیرے اندر بھی اک ہندو رہتا ہےLiaqat Jafri
  39. ایک آسیب تعاقب میں لگا رہتا ہےمیں جو رکتا ہوں تو پھر اس کی صدا چلتی ہےLiaqat Jafri
  40. جہاں جو تھا وہیں رہنا تھا اس کومگر یہ لوگ ہجرت کر رہے ہیںLiaqat Jafri
  41. عشق تو نے بڑا نقصان کیا ہے میرامیں تو اس شخص سے نفرت بھی نہیں کر سکتاLiaqat Jafri
  42. لفظ کو الہام معنی کو شرر سمجھا تھا میںدرحقیقت عیب تھا جس کو ہنر سمجھا تھا میںLiaqat Jafri
  43. میری جانب نہ بڑھنا اب محبتمیں اب پہلے سے مشکل راستا ہوںLiaqat Jafri
  44. میں بہت جلد لوٹ آؤں گاتم مرا انتظار مت کرناLiaqat Jafri
  45. میں دوڑ دوڑ کے خود کو پکڑ کے لاتا ہوںتمہارے عشق نے بچا بنا دیا ہے مجھےLiaqat Jafri
  46. آپ دل کھول کر بیداد پہ بیداد کریںاور ہم ضبط سے لیں کام نہ فریاد کریںمیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
  47. آخر نہ چلی کوئی بھی تدبیر ہماریبن بن کے بگڑنے لگی تقدیر ہماریمیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
  48. اچھا ہوا یہ وقت تو آنا ضرور تھامدت سے کش مکش میں دل ناصبور تھامیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
  49. الفت عارض لیلیٰ میں پریشاں نکلاقیس مانند سحر چاک گریباں نکلامیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
  50. ختم ہوگا اب سفر پیش نظر ہے روئے دوستآ رہی ہے آج کی منزل سے مجھ کو بوئے دوستمیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی