بادلوں کے خون سے چپکی ہوئی اس شام میں

Faisal Hashmi

بادلوں کے خون سے چپکی ہوئی اس شام میں

اڑ رہے تھے

کچھ پرندے

لڑکھڑاتی آہٹوں کے

کارواں کے ساتھ میں

شہر گردی میں رہا

گھر کا رستہ یاد آتا ہی نہ تھا

کس قدر میں ڈر گیا تھا

نیند کی خاموشیوں کے شور سے