میں کہ گفتار کا ماہر تھا جہاں دیدہ تھا
Faisal Hashmiمیں کہ گفتار کا ماہر تھا جہاں دیدہ تھا
لوگ سنتے تھے مری اور سناتے بھی تھے
اپنے دکھ درد میں ڈوبی ہوئی ساری باتیں
مسئلہ کون سا ایسا تھا جسے حل نہ کیا
آج بھی بھیڑ تھی لوگوں کی مرے چاروں طرف
میں نے ہر ایک کو باتوں میں سکوں یاب کیا
پھر کوئی دور سے دیتا ہے صدا کون ہو تم
آئے ہو کون سی نگری سے ذرا نام تو لو
نام تو میں نے بتایا اسے فوراً اپنا
اور میں کون ہوں آیا ہوں میں کس نگری سے
میں نے جب خود سے یہ پوچھا تو مسلسل چپ تھی
چاروں اطراف میں صدیوں کی مقفل چپ تھی