رات کی راہ سے ہٹ کر کسی غم خانے سے

Faisal Hashmi

رات کی راہ سے ہٹ کر کسی غم خانے سے

چاند چپکے سے نکل آیا تھا

کتنی کلیاں تھیں جو ذہنوں میں مہکتی دیکھیں

برف کے ایک پگھلتے ہوئے سناٹے میں

کتنی صدیاں تھیں جو خاموش گزرتے دیکھیں

اپنی ہی آگ میں جلتے ہوئے پیڑوں پر اگر

اس گھڑی بور جو اترا تو جنم ہوگا ضرور

ایسی نظموں کا جو مہکار میں ڈوبی ہوں گی