میں اپنے جسم سے باہر نکل کے دیکھوں گا

Faisal Hashmi

میں اپنے جسم سے باہر نکل کے دیکھوں گا

یہ کائنات مجھے کس طرح کی لگتی ہے

فریب ذات کا احساس گرچہ اچھا ہے

بہت کٹھن ہے سفر آگہی کی منزل کا

بھٹک رہا ہوں میں صدیوں سے ایسی دنیا میں

جہاں پہ جسم سے ہو کر گزرنا پڑتا ہے

ہر ایک خواب کو رستہ بدلنا پڑتا ہے