بخت نے پھر مجھے اس سال کھلائی ہولی
بھارتیندو ہریش چندربخت نے پھر مجھے اس سال کھلائی ہولی
سوز فرقت سے ز بس مجھ کو نہ بھائی ہولی
شعلۂ عشق بھڑکتا ہے تو کہتا ہوں رساؔ
دل جلانے کے لیے آہ یہ آئی ہولی
بخت نے پھر مجھے اس سال کھلائی ہولی
سوز فرقت سے ز بس مجھ کو نہ بھائی ہولی
شعلۂ عشق بھڑکتا ہے تو کہتا ہوں رساؔ
دل جلانے کے لیے آہ یہ آئی ہولی