Poetry
Poet
Meter
- دے دیں ابھی کرے جو کوئی خوب رو پسندہم کو نہیں پسند دل آرزو پسندنسیم بھرتپوری
- ذکر دشمن ہے ناگوار کسےتم سناتے ہو بار بار کسےنسیم بھرتپوری
- رکھنا خم گیسو میں یا دل کو رہا کرناکچھ کہہ تو سہی ظالم آخر تجھے کیا کرنانسیم بھرتپوری
- سب لطف ہے خاک زندگی کاہو خانہ خراب عاشقی کانسیم بھرتپوری
- غیر کے گھر بن کے ڈالی جائے گیکیوں کر ان کی عید خالی جائے گینسیم بھرتپوری
- غیر کے گھر ہیں وہ مہمان بڑی مشکل ہےجان جانے کے ہیں سامان بڑی مشکل ہےنسیم بھرتپوری
- کیا خاک کہوں مطلب دل دار کے آگےسو اور سنائے گا وہ اغیار کے آگےنسیم بھرتپوری
- میرے تڑپنے نے تماشا کیاوہ نگہ شوق سے دیکھا کیانسیم بھرتپوری
- نالۂ دل کمال کا نکلاان سے پہلو وصال کا نکلانسیم بھرتپوری
- نہ مانی اس نے ایک بھی دل کیدل ہی میں بات رہ گئی دل کینسیم بھرتپوری
- ہجر میں جب خیال یار آیالب پہ نالہ ہزار بار آیانسیم بھرتپوری
- ہم یار کی غیروں پہ نظر دیکھ رہے ہیںگو منہ پہ نہ لائیں گے مگر دیکھ رہے ہیںنسیم بھرتپوری
- ہوں گے دل و جگر میں نشاں دیکھ لیجئےتیر نظر پڑے ہیں کہاں دیکھ لیجئےنسیم بھرتپوری
- یوں ہی گر عدو کی غلامی کریں گےوہ حاصل بڑی نیک نامی کریں گےنسیم بھرتپوری
- ذکر ایفا کچھ نہیں وعدہ ہی وعدہ ہم سے ہےرات دن شام و سحر امروز فردا ہم سے ہےنسیم بھرتپوری
- شب فرقت قضا نہیں آتیلاکھ کہتا ہوں آ نہیں آتینسیم بھرتپوری
- ابھی تو یہی دیکھنا چاہتا ہوںنہیں چاہتا ان کو یا چاہتا ہوںپنڈت ہری چند اختر
- برا ہو گیا یا بھلا ہو گیامحبت میں جو ہو گیا ہو گیاپنڈت ہری چند اختر
- بے لوث محبت کی نظر ڈھونڈ رہا ہوںانجام تو ظاہر ہے مگر ڈھونڈ رہا ہوںپنڈت ہری چند اختر
- جس زمیں پر ترا نقش کف پا ہوتا ہےایک اک ذرہ وہاں قبلہ نما ہوتا ہےپنڈت ہری چند اختر
- جمع ہیں سارے مسافر نا خدائے دل کے پاسکشتیٔ ہستی نظر آتی ہے اب ساحل کے پاسپنڈت ہری چند اختر
- جی کو روگ لگا بیٹھا جی کے روگ سے مرتا ہوںاس میں کسی سے شکوہ کیا اپنی کرنی بھرتا ہوںپنڈت ہری چند اختر
- چاہتا ہوں انتہائے درد دلمل گئی آخر دوائے درد دلپنڈت ہری چند اختر
- رمز آشنا ملے کئی اہل نظر ملےپھر بھی یہ جستجو رہی کوئی بشر ملےپنڈت ہری چند اختر
- زندگی بھر دہر کی نیرنگیاں دیکھا کئےگردش ایام و دور آسماں دیکھا کئےپنڈت ہری چند اختر
- سنا کر حال قسمت آزما کر لوٹ آئے ہیںانہیں کچھ اور بیگانہ بنا کر لوٹ آئے ہیںپنڈت ہری چند اختر
- سیر دنیا سے غرض تھی محو دنیا کر دیامیں نے کیا چاہا مرے اللہ نے کیا کر دیاپنڈت ہری چند اختر
- شباب آیا کسی بت پر فدا ہونے کا وقت آیامری دنیا میں بندے کے خدا ہونے کا وقت آیاپنڈت ہری چند اختر
- شیخ و پنڈت دھرم اور اسلام کی باتیں کریںکچھ خدا کے قہر کچھ انعام کی باتیں کریںپنڈت ہری چند اختر
- صورت سے وہ بیزار ہے معلوم نہیں کیوںدل پھر بھی طلب گار ہے معلوم نہیں کیوںپنڈت ہری چند اختر
- غرور ضبط سے آہ و فغاں تک بات آ پہنچیہوس نے کیا کیا دل سے زباں تک بات آ پہنچیپنڈت ہری چند اختر
- کلیوں کا تبسم ہو، کہ تم ہو کہ صبا ہواس رات کے سناٹے میں، کوئی تو صدا ہوپنڈت ہری چند اختر
- محبت میں تپاک ظاہری سے کچھ نہیں ہوتاجہاں دل کو لگی ہو دل لگی سے کچھ نہیں ہوتاپنڈت ہری چند اختر
- مرا مضموں سوار توسن طبع رواں ہو کرزمین شعر پر پھرتا ہے گویا آسماں ہو کرپنڈت ہری چند اختر
- ملے گی شیخ کو جنت، ہمیں دوزخ عطا ہوگابس اتنی بات ہے جس کے لیے محشر بپا ہوگاپنڈت ہری چند اختر
- میکدے میں بیٹھ کر ایمان کی پروا نہ کریا اسے بھی ایک دو چلو پلا دیوانہ کرپنڈت ہری چند اختر
- ہمارا ذکر دشمن کی زبانی دیکھتے جاؤفسانہ بن گئی ساری کہانی دیکھتے جاؤپنڈت ہری چند اختر
- جہاں تجھ کو بٹھا کر پوجتے ہیں پوجنے والےوہ مندر اور ہوتے ہیں شوالے اور ہوتے ہیںپنڈت ہری چند اختر
- فکر عقبیٰ ہے مجھے خواہش دنیا ہے مجھےعیش کی دھن ہے مجھے موت کا دھڑکا ہے مجھےپنڈت ہری چند اختر
- کسی کے حسن عالم تاب کی تنویر کے صدقےکسی بد بخت کی صورت بھی پہچانی نہیں جاتیپنڈت ہری چند اختر
- اب میری دوگانا کو مرا دھیان ہے کیا خاکانسان کی انا اسے پہچان ہے کیا خاکسعادت یار خان رنگین
- اس کے کوچے میں بہت رہتے ہیں دیوانے پڑےان میں دیکھا تو میاں رنگیںؔ نہ پہچانے پڑےسعادت یار خان رنگین
- پھر بہار آئی مرے صیاد کو پروا نہیںاڑ کے میں پہنچوں چمن میں کیا کروں پر وا نہیںسعادت یار خان رنگین
- تا حشر رہے یہ داغ دل کایارب نہ بجھے چراغ دل کاسعادت یار خان رنگین
- تجھ کو آتی ہے دلاسے کی نہیں بات کوئیکس طرح تجھ سے رکھے جان ملاقات کوئیسعادت یار خان رنگین
- ٹیس پیڑو میں اٹھی اوہی مری جان گئیمت ستا مجھ کو دوگانا ترے قربان گئیسعادت یار خان رنگین
- چاہ کر ہم اس پری رو کو جو دیوانے ہوئےدوست دشمن ہو گئے اور اپنے بیگانے ہوئےسعادت یار خان رنگین
- رشتہ الفت کو توڑوں کس طرحعشق سے میں منہ کو موڑوں کس طرحسعادت یار خان رنگین
- عشق سے بچ کے کدھر جائیں گے ہمہے یہ موجود جدھر جائیں گے ہمسعادت یار خان رنگین
- غیر کی خاطر سے تم یاروں کو دھمکانے لگےآ کے میرے روبرو تلوار چمکانے لگےسعادت یار خان رنگین