Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. دے دیں ابھی کرے جو کوئی خوب رو پسندہم کو نہیں پسند دل آرزو پسندنسیم بھرتپوری
  2. ذکر دشمن ہے ناگوار کسےتم سناتے ہو بار بار کسےنسیم بھرتپوری
  3. رکھنا خم گیسو میں یا دل کو رہا کرناکچھ کہہ تو سہی ظالم آخر تجھے کیا کرنانسیم بھرتپوری
  4. سب لطف ہے خاک زندگی کاہو خانہ خراب عاشقی کانسیم بھرتپوری
  5. غیر کے گھر بن کے ڈالی جائے گیکیوں کر ان کی عید خالی جائے گینسیم بھرتپوری
  6. غیر کے گھر ہیں وہ مہمان بڑی مشکل ہےجان جانے کے ہیں سامان بڑی مشکل ہےنسیم بھرتپوری
  7. کیا خاک کہوں مطلب دل دار کے آگےسو اور سنائے گا وہ اغیار کے آگےنسیم بھرتپوری
  8. میرے تڑپنے نے تماشا کیاوہ نگہ شوق سے دیکھا کیانسیم بھرتپوری
  9. نالۂ دل کمال کا نکلاان سے پہلو وصال کا نکلانسیم بھرتپوری
  10. نہ مانی اس نے ایک بھی دل کیدل ہی میں بات رہ گئی دل کینسیم بھرتپوری
  11. ہجر میں جب خیال یار آیالب پہ نالہ ہزار بار آیانسیم بھرتپوری
  12. ہم یار کی غیروں پہ نظر دیکھ رہے ہیںگو منہ پہ نہ لائیں گے مگر دیکھ رہے ہیںنسیم بھرتپوری
  13. ہوں گے دل و جگر میں نشاں دیکھ لیجئےتیر نظر پڑے ہیں کہاں دیکھ لیجئےنسیم بھرتپوری
  14. یوں ہی گر عدو کی غلامی کریں گےوہ حاصل بڑی نیک نامی کریں گےنسیم بھرتپوری
  15. ذکر ایفا کچھ نہیں وعدہ ہی وعدہ ہم سے ہےرات دن شام و سحر امروز فردا ہم سے ہےنسیم بھرتپوری
  16. شب فرقت قضا نہیں آتیلاکھ کہتا ہوں آ نہیں آتینسیم بھرتپوری
  17. ابھی تو یہی دیکھنا چاہتا ہوںنہیں چاہتا ان کو یا چاہتا ہوںپنڈت ہری چند اختر
  18. برا ہو گیا یا بھلا ہو گیامحبت میں جو ہو گیا ہو گیاپنڈت ہری چند اختر
  19. بے لوث محبت کی نظر ڈھونڈ رہا ہوںانجام تو ظاہر ہے مگر ڈھونڈ رہا ہوںپنڈت ہری چند اختر
  20. جس زمیں پر ترا نقش کف پا ہوتا ہےایک اک ذرہ وہاں قبلہ نما ہوتا ہےپنڈت ہری چند اختر
  21. جمع ہیں سارے مسافر نا خدائے دل کے پاسکشتیٔ ہستی نظر آتی ہے اب ساحل کے پاسپنڈت ہری چند اختر
  22. جی کو روگ لگا بیٹھا جی کے روگ سے مرتا ہوںاس میں کسی سے شکوہ کیا اپنی کرنی بھرتا ہوںپنڈت ہری چند اختر
  23. چاہتا ہوں انتہائے درد دلمل گئی آخر دوائے درد دلپنڈت ہری چند اختر
  24. رمز آشنا ملے کئی اہل نظر ملےپھر بھی یہ جستجو رہی کوئی بشر ملےپنڈت ہری چند اختر
  25. زندگی بھر دہر کی نیرنگیاں دیکھا کئےگردش ایام و دور آسماں دیکھا کئےپنڈت ہری چند اختر
  26. سنا کر حال قسمت آزما کر لوٹ آئے ہیںانہیں کچھ اور بیگانہ بنا کر لوٹ آئے ہیںپنڈت ہری چند اختر
  27. سیر دنیا سے غرض تھی محو دنیا کر دیامیں نے کیا چاہا مرے اللہ نے کیا کر دیاپنڈت ہری چند اختر
  28. شباب آیا کسی بت پر فدا ہونے کا وقت آیامری دنیا میں بندے کے خدا ہونے کا وقت آیاپنڈت ہری چند اختر
  29. شیخ و پنڈت دھرم اور اسلام کی باتیں کریںکچھ خدا کے قہر کچھ انعام کی باتیں کریںپنڈت ہری چند اختر
  30. صورت سے وہ بیزار ہے معلوم نہیں کیوںدل پھر بھی طلب گار ہے معلوم نہیں کیوںپنڈت ہری چند اختر
  31. غرور ضبط سے آہ و فغاں تک بات آ پہنچیہوس نے کیا کیا دل سے زباں تک بات آ پہنچیپنڈت ہری چند اختر
  32. کلیوں کا تبسم ہو، کہ تم ہو کہ صبا ہواس رات کے سناٹے میں، کوئی تو صدا ہوپنڈت ہری چند اختر
  33. محبت میں تپاک ظاہری سے کچھ نہیں ہوتاجہاں دل کو لگی ہو دل لگی سے کچھ نہیں ہوتاپنڈت ہری چند اختر
  34. مرا مضموں سوار توسن طبع رواں ہو کرزمین شعر پر پھرتا ہے گویا آسماں ہو کرپنڈت ہری چند اختر
  35. ملے گی شیخ کو جنت، ہمیں دوزخ عطا ہوگابس اتنی بات ہے جس کے لیے محشر بپا ہوگاپنڈت ہری چند اختر
  36. میکدے میں بیٹھ کر ایمان کی پروا نہ کریا اسے بھی ایک دو چلو پلا دیوانہ کرپنڈت ہری چند اختر
  37. ہمارا ذکر دشمن کی زبانی دیکھتے جاؤفسانہ بن گئی ساری کہانی دیکھتے جاؤپنڈت ہری چند اختر
  38. جہاں تجھ کو بٹھا کر پوجتے ہیں پوجنے والےوہ مندر اور ہوتے ہیں شوالے اور ہوتے ہیںپنڈت ہری چند اختر
  39. فکر عقبیٰ ہے مجھے خواہش دنیا ہے مجھےعیش کی دھن ہے مجھے موت کا دھڑکا ہے مجھےپنڈت ہری چند اختر
  40. کسی کے حسن عالم تاب کی تنویر کے صدقےکسی بد بخت کی صورت بھی پہچانی نہیں جاتیپنڈت ہری چند اختر
  41. اب میری دوگانا کو مرا دھیان ہے کیا خاکانسان کی انا اسے پہچان ہے کیا خاکسعادت یار خان رنگین
  42. اس کے کوچے میں بہت رہتے ہیں دیوانے پڑےان میں دیکھا تو میاں رنگیںؔ نہ پہچانے پڑےسعادت یار خان رنگین
  43. پھر بہار آئی مرے صیاد کو پروا نہیںاڑ کے میں پہنچوں چمن میں کیا کروں پر وا نہیںسعادت یار خان رنگین
  44. تا حشر رہے یہ داغ دل کایارب نہ بجھے چراغ دل کاسعادت یار خان رنگین
  45. تجھ کو آتی ہے دلاسے کی نہیں بات کوئیکس طرح تجھ سے رکھے جان ملاقات کوئیسعادت یار خان رنگین
  46. ٹیس پیڑو میں اٹھی اوہی مری جان گئیمت ستا مجھ کو دوگانا ترے قربان گئیسعادت یار خان رنگین
  47. چاہ کر ہم اس پری رو کو جو دیوانے ہوئےدوست دشمن ہو گئے اور اپنے بیگانے ہوئےسعادت یار خان رنگین
  48. رشتہ الفت کو توڑوں کس طرحعشق سے میں منہ کو موڑوں کس طرحسعادت یار خان رنگین
  49. عشق سے بچ کے کدھر جائیں گے ہمہے یہ موجود جدھر جائیں گے ہمسعادت یار خان رنگین
  50. غیر کی خاطر سے تم یاروں کو دھمکانے لگےآ کے میرے روبرو تلوار چمکانے لگےسعادت یار خان رنگین