Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. درگاہ علم دار سے بہبودی ہےبیماری کو واں شفائے خوشنودی ہےمرزا سلامت علی دبیر
  2. فرمان علی لوح و قلم تک پہنچافضل ان کا ہر ایک غم میں ہم تک پہنچامرزا سلامت علی دبیر
  3. مشہور جہاں ہے داستان شیریںشیریں نے فدا کی شہ پہ جان شیریںمرزا سلامت علی دبیر
  4. ہم شان نجف نہ عرش انور ٹھہرامیزان میں یہ بھاری وہ سبک تر ٹھہرامرزا سلامت علی دبیر
  5. آہوں سے عیاں برق فشانی ہو جائےغل رعد کا نالوں کی زبانی ہو جائےمرزا سلامت علی دبیر
  6. اس در پہ ہر ایک شادماں رہتا ہےخنداں گل امید یہاں رہتا ہےمرزا سلامت علی دبیر
  7. اے خضر کے رہبر مجھے گمراہ نہ کرممنوں گدا دلوں کا یا شاہ نہ کرمرزا سلامت علی دبیر
  8. پروانے کو دھن شمع کو لو تیری ہےعالم میں ہر ایک کو تگ و دو تیری ہےمرزا سلامت علی دبیر
  9. صغریٰ کا مرض کم نہ ہوا درماں سےآخر ہوئی بیمار تپ ہجراں سےمرزا سلامت علی دبیر
  10. کیا قامت احمد نے ضیا پائی ہےچہرے میں عجب نور کی زیبائی ہےمرزا سلامت علی دبیر
  11. ہر چشم سے چشمے کی روانی ہو جائےپھر تازہ مری مرثیہ خوانی ہو جائےمرزا سلامت علی دبیر
  12. ہے رزم سراپا تو زباں اور ہی ہےاور بین کے مابین بیاں اور ہی ہےمرزا سلامت علی دبیر
  13. یا شاہ نجف تھام لو اس کشور کوآباد رکھو اہل عزا کے گھر کومرزا سلامت علی دبیر
  14. بلقیس پاسباں ہے یہ کس کی جناب ہےمریم درود خواں ہے یہ کس کی جناب ہےمرزا سلامت علی دبیر
  15. پیدا شعاع مہر کی مقراض جب ہوئیپنہاں درازیٔ پر طاؤس شب ہوئیمرزا سلامت علی دبیر
  16. جب سرنگوں ہوا علم کہکشان شبخورشید کے نشاں نے مٹایا نشان شبمرزا سلامت علی دبیر
  17. روشن کیا جو حق نے چراغ انتقام کادل صر صر فنا سے بجھا اہل شام کامرزا سلامت علی دبیر
  18. کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہےرستم کا جگر زیر کفن کانپ رہا ہےمرزا سلامت علی دبیر
  19. آنسوؤں سے خون کے اجزا بدلتے جائیں گےدل کے سب ارمان آنکھوں سے نکلتے جائیں گےناطق لکھنوی
  20. ایک دنیا مست اک عالم خرابکس نے کی تقسیم آنکھوں سے شرابناطق لکھنوی
  21. اے شمع تجھ پہ رات یہ بھاری ہے جس طرحمیں نے تمام عمر گزاری ہے اس طرحناطق لکھنوی
  22. بے دلوں کی آبرو رہ جائے گیدل نہ ہوگا آرزو رہ جائے گیناطق لکھنوی
  23. پرتو نور بھی ہے جوہر تنویر بھی ہےآئنہ بھی ہے مرا دل تری تصویر بھی ہےناطق لکھنوی
  24. تیرے سوا نگاہوں میں اے یار کون ہےحیراں ہوں میں کہ طالب دیدار کون ہےناطق لکھنوی
  25. جو میرے دل میں سہو تری یاد سے ہوانام اس کا محو عالم ایجاد سے ہواناطق لکھنوی
  26. دوبارہ دل میں کوئی انقلاب ہو نہ سکاتمہاری پہلی نظر کا جواب ہو نہ سکاناطق لکھنوی
  27. صدقے ترے ہوتے ہیں سورج بھی ستارے بھیہم کس سے کہیں دل ہے سینے میں ہمارے بھیناطق لکھنوی
  28. فراق یار کا خطرہ وصال یار میں ہےخزاں کی فکر خزاں میں نہ تھی بہار میں ہےناطق لکھنوی
  29. فروغ مہر سے رندوں کا آخر کام کیا ہوگازمیں پر دور چلتا ہے فلک پر جام کیا ہوگاناطق لکھنوی
  30. قید میں بھی ہے جنوں دست و گریباں ہم سےآ کے خلوت میں بھی ملتا ہے بیاباں ہم سےناطق لکھنوی
  31. کبھی دامان دل پر داغ مایوسی نہیں آیاادھر وعدہ کیا اس نے ادھر دل کو یقیں آیاناطق لکھنوی
  32. کیا بتاؤں دل کہاں ہے اور کس جا درد ہےمیں سراپا دل ہوں دل میرا سراپا درد ہےناطق لکھنوی
  33. مجھ سے افسردہ نہ اے جوش بہاراں ہوناکیف میں بھول گیا چاک گریباں ہوناناطق لکھنوی
  34. میں جو یہ آشیاں بناتا ہوںبرق کو میہماں بناتا ہوںناطق لکھنوی
  35. نہ قطرہ کم ہے نہ کافی تمام مے خانہجو ظرف جس کا ہے اس کا وہی ہے پیمانہناطق لکھنوی
  36. وقت رخصت چلتے چلتے کہہ گئےاب جو ارماں رہ گئے سو رہ گئےناطق لکھنوی
  37. ہے وہی ناز آفریں آئینہ نیاز میںجس کی ضیا ہے سوز میں جس کی صدا ہے ساز میںناطق لکھنوی
  38. یہ دل نہیں نور کا ہے شعلہ کسی کو اس سے ضرر نہیں ہےمثال برق و شرر ہے لیکن مزاج برق و شرر نہیں ہےناطق لکھنوی
  39. جسے ڈھونڈا اسے پایا اسے تدبیر کہتے ہیںمگر خود کھو گئے آخر اسے تقدیر کہتے ہیںناطق لکھنوی
  40. خون دل کا جو کچھ اشکوں سے پتہ ملتا ہےہم کو جی کھول کے رونے میں مزا ملتا ہےناطق لکھنوی
  41. دراز اتنا مری قید کا زمانہ تھاکہ وہ چمن نہ رہا جس میں آشیانہ تھاناطق لکھنوی
  42. مرے مقدر میں جو لکھا تھا نصیب سے وہ پہنچ نہ پایاگرا تو تھا آسمان سے کچھ کھجور میں رہ گیا اٹک کرناطق لکھنوی
  43. آپ وہ سب کی جان لیتے ہیںموت کو مفت سان لینے ہیںنسیم بھرتپوری
  44. ان کے پیکان پہ پیکان چلے آتے ہیںدل میں گھر کرنے کو مہمان چلے آتے ہیںنسیم بھرتپوری
  45. بہار آئی ہے پھر وحشت کے ساماں ہوتے جاتے ہیںمرے سینے میں داغوں کے گلستاں ہوتے جاتے ہیںنسیم بھرتپوری
  46. بیتاب ہیں کسی کی نگاہیں نقاب میںہیں بجلیاں کہ کوند رہی ہیں سحاب میںنسیم بھرتپوری
  47. جدھر دیکھ تمہاری بزم میں اغیار بیٹھے ہیںادھر دس پانچ بیٹھے ہیں ادھر دو چار بیٹھے ہیںنسیم بھرتپوری
  48. جور پیہم کی انتہا بھی ہےایک کے بعد دوسرا بھی ہےنسیم بھرتپوری
  49. جہاں میں ابھی یوں تو کیا کیا نہ ہوگازمیں پر کوئی تم سا پیدا نہ ہوگانسیم بھرتپوری
  50. دکھائے معجزے گر وہ بت عیار چٹکی میںتو بولے طائر رنگ حنا ہر بار چٹکی میںنسیم بھرتپوری