Poetry
Poet
Meter
- درگاہ علم دار سے بہبودی ہےبیماری کو واں شفائے خوشنودی ہےمرزا سلامت علی دبیر
- فرمان علی لوح و قلم تک پہنچافضل ان کا ہر ایک غم میں ہم تک پہنچامرزا سلامت علی دبیر
- مشہور جہاں ہے داستان شیریںشیریں نے فدا کی شہ پہ جان شیریںمرزا سلامت علی دبیر
- ہم شان نجف نہ عرش انور ٹھہرامیزان میں یہ بھاری وہ سبک تر ٹھہرامرزا سلامت علی دبیر
- آہوں سے عیاں برق فشانی ہو جائےغل رعد کا نالوں کی زبانی ہو جائےمرزا سلامت علی دبیر
- اس در پہ ہر ایک شادماں رہتا ہےخنداں گل امید یہاں رہتا ہےمرزا سلامت علی دبیر
- اے خضر کے رہبر مجھے گمراہ نہ کرممنوں گدا دلوں کا یا شاہ نہ کرمرزا سلامت علی دبیر
- پروانے کو دھن شمع کو لو تیری ہےعالم میں ہر ایک کو تگ و دو تیری ہےمرزا سلامت علی دبیر
- صغریٰ کا مرض کم نہ ہوا درماں سےآخر ہوئی بیمار تپ ہجراں سےمرزا سلامت علی دبیر
- کیا قامت احمد نے ضیا پائی ہےچہرے میں عجب نور کی زیبائی ہےمرزا سلامت علی دبیر
- ہر چشم سے چشمے کی روانی ہو جائےپھر تازہ مری مرثیہ خوانی ہو جائےمرزا سلامت علی دبیر
- ہے رزم سراپا تو زباں اور ہی ہےاور بین کے مابین بیاں اور ہی ہےمرزا سلامت علی دبیر
- یا شاہ نجف تھام لو اس کشور کوآباد رکھو اہل عزا کے گھر کومرزا سلامت علی دبیر
- بلقیس پاسباں ہے یہ کس کی جناب ہےمریم درود خواں ہے یہ کس کی جناب ہےمرزا سلامت علی دبیر
- پیدا شعاع مہر کی مقراض جب ہوئیپنہاں درازیٔ پر طاؤس شب ہوئیمرزا سلامت علی دبیر
- جب سرنگوں ہوا علم کہکشان شبخورشید کے نشاں نے مٹایا نشان شبمرزا سلامت علی دبیر
- روشن کیا جو حق نے چراغ انتقام کادل صر صر فنا سے بجھا اہل شام کامرزا سلامت علی دبیر
- کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہےرستم کا جگر زیر کفن کانپ رہا ہےمرزا سلامت علی دبیر
- آنسوؤں سے خون کے اجزا بدلتے جائیں گےدل کے سب ارمان آنکھوں سے نکلتے جائیں گےناطق لکھنوی
- ایک دنیا مست اک عالم خرابکس نے کی تقسیم آنکھوں سے شرابناطق لکھنوی
- اے شمع تجھ پہ رات یہ بھاری ہے جس طرحمیں نے تمام عمر گزاری ہے اس طرحناطق لکھنوی
- بے دلوں کی آبرو رہ جائے گیدل نہ ہوگا آرزو رہ جائے گیناطق لکھنوی
- پرتو نور بھی ہے جوہر تنویر بھی ہےآئنہ بھی ہے مرا دل تری تصویر بھی ہےناطق لکھنوی
- تیرے سوا نگاہوں میں اے یار کون ہےحیراں ہوں میں کہ طالب دیدار کون ہےناطق لکھنوی
- جو میرے دل میں سہو تری یاد سے ہوانام اس کا محو عالم ایجاد سے ہواناطق لکھنوی
- دوبارہ دل میں کوئی انقلاب ہو نہ سکاتمہاری پہلی نظر کا جواب ہو نہ سکاناطق لکھنوی
- صدقے ترے ہوتے ہیں سورج بھی ستارے بھیہم کس سے کہیں دل ہے سینے میں ہمارے بھیناطق لکھنوی
- فراق یار کا خطرہ وصال یار میں ہےخزاں کی فکر خزاں میں نہ تھی بہار میں ہےناطق لکھنوی
- فروغ مہر سے رندوں کا آخر کام کیا ہوگازمیں پر دور چلتا ہے فلک پر جام کیا ہوگاناطق لکھنوی
- قید میں بھی ہے جنوں دست و گریباں ہم سےآ کے خلوت میں بھی ملتا ہے بیاباں ہم سےناطق لکھنوی
- کبھی دامان دل پر داغ مایوسی نہیں آیاادھر وعدہ کیا اس نے ادھر دل کو یقیں آیاناطق لکھنوی
- کیا بتاؤں دل کہاں ہے اور کس جا درد ہےمیں سراپا دل ہوں دل میرا سراپا درد ہےناطق لکھنوی
- مجھ سے افسردہ نہ اے جوش بہاراں ہوناکیف میں بھول گیا چاک گریباں ہوناناطق لکھنوی
- میں جو یہ آشیاں بناتا ہوںبرق کو میہماں بناتا ہوںناطق لکھنوی
- نہ قطرہ کم ہے نہ کافی تمام مے خانہجو ظرف جس کا ہے اس کا وہی ہے پیمانہناطق لکھنوی
- وقت رخصت چلتے چلتے کہہ گئےاب جو ارماں رہ گئے سو رہ گئےناطق لکھنوی
- ہے وہی ناز آفریں آئینہ نیاز میںجس کی ضیا ہے سوز میں جس کی صدا ہے ساز میںناطق لکھنوی
- یہ دل نہیں نور کا ہے شعلہ کسی کو اس سے ضرر نہیں ہےمثال برق و شرر ہے لیکن مزاج برق و شرر نہیں ہےناطق لکھنوی
- جسے ڈھونڈا اسے پایا اسے تدبیر کہتے ہیںمگر خود کھو گئے آخر اسے تقدیر کہتے ہیںناطق لکھنوی
- خون دل کا جو کچھ اشکوں سے پتہ ملتا ہےہم کو جی کھول کے رونے میں مزا ملتا ہےناطق لکھنوی
- دراز اتنا مری قید کا زمانہ تھاکہ وہ چمن نہ رہا جس میں آشیانہ تھاناطق لکھنوی
- مرے مقدر میں جو لکھا تھا نصیب سے وہ پہنچ نہ پایاگرا تو تھا آسمان سے کچھ کھجور میں رہ گیا اٹک کرناطق لکھنوی
- آپ وہ سب کی جان لیتے ہیںموت کو مفت سان لینے ہیںنسیم بھرتپوری
- ان کے پیکان پہ پیکان چلے آتے ہیںدل میں گھر کرنے کو مہمان چلے آتے ہیںنسیم بھرتپوری
- بہار آئی ہے پھر وحشت کے ساماں ہوتے جاتے ہیںمرے سینے میں داغوں کے گلستاں ہوتے جاتے ہیںنسیم بھرتپوری
- بیتاب ہیں کسی کی نگاہیں نقاب میںہیں بجلیاں کہ کوند رہی ہیں سحاب میںنسیم بھرتپوری
- جدھر دیکھ تمہاری بزم میں اغیار بیٹھے ہیںادھر دس پانچ بیٹھے ہیں ادھر دو چار بیٹھے ہیںنسیم بھرتپوری
- جور پیہم کی انتہا بھی ہےایک کے بعد دوسرا بھی ہےنسیم بھرتپوری
- جہاں میں ابھی یوں تو کیا کیا نہ ہوگازمیں پر کوئی تم سا پیدا نہ ہوگانسیم بھرتپوری
- دکھائے معجزے گر وہ بت عیار چٹکی میںتو بولے طائر رنگ حنا ہر بار چٹکی میںنسیم بھرتپوری