Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. کروں میں کہاں تک مدارات روزتمہیں چاہیئے ہے وہی بات روزسعادت یار خان رنگین
  2. کس سے گرمی کا رکھا جائے یہ بھاری روزہسردی ہووے تو رکھے مجھ سی بچاری روزہسعادت یار خان رنگین
  3. کشتی میں کپی تیل کی انا انڈیل ڈالسوکھے ہیں بال آ کے مرے سر میں تیل ڈالسعادت یار خان رنگین
  4. گرم ان روزوں میں کچھ عشق کا بازار نہیںبیچتا دل کو ہوں میں کوئی خریدار نہیںسعادت یار خان رنگین
  5. میری ایذا میں خوشی جب آپ کی پاتے ہیں لوگتو مجھے کس کس طرح سے آ کے دھمکاتے ہیں لوگسعادت یار خان رنگین
  6. میری طرف سے کچھ تو ترے دل میں چور ہےمیں نے سمجھ لیا تو دوگانا گھنور ہےسعادت یار خان رنگین
  7. میرے گھر میں زناخی آئی کبمیں نگوڑی بھلا نہائی کبسعادت یار خان رنگین
  8. میں تو کچھ کہتی نہیں شوق سے سو باری چیخنام لے کر مری دائی کا ددا ماری چیخسعادت یار خان رنگین
  9. نیند آتی نہیں کم بخت دوانی آ جااپنی بیتی کوئی کہہ آج کہانی آ جاسعادت یار خان رنگین
  10. ہم جوں چکور غش ہیں اجی ایک یار پربلبل کی طرح جی نہیں دیتے ہزار پرسعادت یار خان رنگین
  11. یوں ہے اس دل کو دوگانہ کی نشانی کی ہوسریت میں مچھلی کو جوں ہوتی ہے پانی کی ہوسسعادت یار خان رنگین
  12. یہ میرے یار نے کیا مجھ سے بے وفائی کیملے نہ پھر کبھی جس دن سے آشنائی کیسعادت یار خان رنگین
  13. جدا اس سے بھلا کب تک رہوں میںبری اس سے بھلا کب تک رہوں میںسعادت یار خان رنگین
  14. ہمدمو کیا مجھ کو تم ان سے ملا سکتے نہیںمیں تو جا سکتا ہوں واں گر یاں وہ آ سکتے نہیںسعادت یار خان رنگین
  15. اٹھو زمانے کے آشوب کا ازالہ کریںبنام گل بدناں رخ سوئے پیالہ کریںسراج الدین ظفر
  16. ازل سے جستجو کی سرگرانی لے کے آیا ہوںتلاش حسن ہے شمع جوانی لے کے آیا ہوںسراج الدین ظفر
  17. اصلاح اہل ہوش کا یارا نہیں ہمیںاس قوم پر خدا نے اتارا نہیں ہمیںسراج الدین ظفر
  18. اور کھل جا کہ معارف کی گزر گاہوں میںپیچ اے زلف سیہ فام ابھی باقی ہیںسراج الدین ظفر
  19. اے اہل نظر سوز ہمیں ساز ہمیں ہیںعالم میں پس پردۂ پرواز ہمیں ہیںسراج الدین ظفر
  20. بغیر ساغر و یار جواں نہیں گزرےہماری عمر کے دن رائیگاں نہیں گزرےسراج الدین ظفر
  21. پھرتی ہے جستجو میں نسیم وطن کہاںاب میں خزاں رسیدہ کہاں اور چمن کہاںسراج الدین ظفر
  22. در مے خانہ سے دیوار چمن تک پہنچےہم غزالوں کے تعاقب میں ختن تک پہنچےسراج الدین ظفر
  23. دن کو بحر و بر کا سینہ چیر کر رکھ دیجئےرات کو پھر پائے گل رویاں پہ سر رکھ دیجئےسراج الدین ظفر
  24. رہین بیم ہستی ہے دل دیوانہ برسوں سےہوا کی زد میں ہے اپنا چراغ خانہ برسوں سےسراج الدین ظفر
  25. ساغر اٹھا کے زہد کو رد ہم نے کر دیاپھر زندگی کے جزر کو مد ہم نے کر دیاسراج الدین ظفر
  26. سب ماسوائے عشق فریب سراب ہےمیں بھی ہوں خواب میری جوانی بھی خواب ہےسراج الدین ظفر
  27. شاید رخ حیات سے سرکے نقاب اوربھر دو مرے سبو میں شراب گلاب اورسراج الدین ظفر
  28. شوق راتوں کو ہے درپئے کہ تپاں ہو جاؤںرقص وحشت میں اٹھوں اور دھواں ہو جاؤںسراج الدین ظفر
  29. عشق کو کائنات کا مقصد و مدعا سمجھپھر ترا ظرف ہے اسے درد سمجھ دوا سمجھسراج الدین ظفر
  30. عشق میں کیا ہاتھوں سے کسی کے دامن ہستی چھوٹ گیاشمع کوئی خاموش ہوئی یا کوئی ستارا ٹوٹ گیاسراج الدین ظفر
  31. کوئی رنج ہے نہ شکایتیں مجھے اپنے ہوش پریدہ سےیہ وہ شمع تھی جو بھڑک اٹھی مری آہ نیم کشیدہ سےسراج الدین ظفر
  32. لائی نہیں پیام کوئی زلف یار سےمجھ کو شکایتیں ہیں نسیم بہار سےسراج الدین ظفر
  33. موسم گل ترے انعام ابھی باقی ہیںشہر میں اور گل اندام ابھی باقی ہیںسراج الدین ظفر
  34. میں نے کہا کہ تجزیۂ جسم و جاں کرواس نے کہا یہ بات سپرد بتاں کروسراج الدین ظفر
  35. ہم آہوان شب کا بھرم کھولتے رہےمیزان دلبری پہ انہیں تولتے رہےسراج الدین ظفر
  36. ہم دل زہرہ وشاں میں خالق اندیشہ ہیںگو خراباتی سہی جبریل کے ہم پیشہ ہیںسراج الدین ظفر
  37. یا رب سراب اہل ہوس سے نجات دےمجھ کو شراب دے انہیں آب حیات دےسراج الدین ظفر
  38. ذوق نمو کو منزل دوست میں آ کے بھول جااس طرح بے نیاز ہو سر کو جھکا کے بھول جاسراج الدین ظفر
  39. الفت نے تری ہم کو تو رکھا نہ کہیں کادریا کا نہ جنگل کا سما کا نہ زمیں کاواجد علی شاہ
  40. اللہ اے بتو ہمیں دکھلائے لکھنؤسوتے میں بھی یہ کہتے ہیں ہم ہائے لکھنؤواجد علی شاہ
  41. اے نسیم سحری ہم تو ہوا ہوتے ہیںدم جو گھٹتا ہے محبت میں خفا ہوتے ہیںواجد علی شاہ
  42. برباد نہ کر اس کو ذرا ہاتھ پہ دھر لااے باد صبا خاک در یار ادھر لاواجد علی شاہ
  43. جا بیٹھتے ہو غیروں میں غیرت نہیں آتیاس وقت مری جان مروت نہیں آتیواجد علی شاہ
  44. چاک چاک اپنا گریباں نہ ہوا تھا سو ہواوحشت دل کا جو ساماں نہ ہوا تھا سو ہواواجد علی شاہ
  45. حال دل اے بتو خدا جانےسچ ہے سچ اس کو غیر کیا جانےواجد علی شاہ
  46. دستار فقیرانہ اک تاج سے افزوں ہےراہ طرح خم خانہ معراج سے افزوں ہےواجد علی شاہ
  47. دکھاتے ہیں جو یہ صنم دیکھتے ہیںخدا کی خدائی کو ہم دیکھتے ہیںواجد علی شاہ
  48. سنا ہے کوچ تو ان کا پر اس کو کیا کہیےزبان خلق کو نقارۂ خدا کہیےواجد علی شاہ
  49. سہے غم پئے رفتگاں کیسے کیسےمرے کھو گئے کارواں کیسے کیسےواجد علی شاہ
  50. عشق سے کچھ کام نے کچھ کوئے جاناں سے غرضگل سے مطلب ہے نہ کچھ خار بیاباں سے غرضواجد علی شاہ