Poetry
Poet
Meter
- کروں میں کہاں تک مدارات روزتمہیں چاہیئے ہے وہی بات روزسعادت یار خان رنگین
- کس سے گرمی کا رکھا جائے یہ بھاری روزہسردی ہووے تو رکھے مجھ سی بچاری روزہسعادت یار خان رنگین
- کشتی میں کپی تیل کی انا انڈیل ڈالسوکھے ہیں بال آ کے مرے سر میں تیل ڈالسعادت یار خان رنگین
- گرم ان روزوں میں کچھ عشق کا بازار نہیںبیچتا دل کو ہوں میں کوئی خریدار نہیںسعادت یار خان رنگین
- میری ایذا میں خوشی جب آپ کی پاتے ہیں لوگتو مجھے کس کس طرح سے آ کے دھمکاتے ہیں لوگسعادت یار خان رنگین
- میری طرف سے کچھ تو ترے دل میں چور ہےمیں نے سمجھ لیا تو دوگانا گھنور ہےسعادت یار خان رنگین
- میرے گھر میں زناخی آئی کبمیں نگوڑی بھلا نہائی کبسعادت یار خان رنگین
- میں تو کچھ کہتی نہیں شوق سے سو باری چیخنام لے کر مری دائی کا ددا ماری چیخسعادت یار خان رنگین
- نیند آتی نہیں کم بخت دوانی آ جااپنی بیتی کوئی کہہ آج کہانی آ جاسعادت یار خان رنگین
- ہم جوں چکور غش ہیں اجی ایک یار پربلبل کی طرح جی نہیں دیتے ہزار پرسعادت یار خان رنگین
- یوں ہے اس دل کو دوگانہ کی نشانی کی ہوسریت میں مچھلی کو جوں ہوتی ہے پانی کی ہوسسعادت یار خان رنگین
- یہ میرے یار نے کیا مجھ سے بے وفائی کیملے نہ پھر کبھی جس دن سے آشنائی کیسعادت یار خان رنگین
- جدا اس سے بھلا کب تک رہوں میںبری اس سے بھلا کب تک رہوں میںسعادت یار خان رنگین
- ہمدمو کیا مجھ کو تم ان سے ملا سکتے نہیںمیں تو جا سکتا ہوں واں گر یاں وہ آ سکتے نہیںسعادت یار خان رنگین
- اٹھو زمانے کے آشوب کا ازالہ کریںبنام گل بدناں رخ سوئے پیالہ کریںسراج الدین ظفر
- ازل سے جستجو کی سرگرانی لے کے آیا ہوںتلاش حسن ہے شمع جوانی لے کے آیا ہوںسراج الدین ظفر
- اصلاح اہل ہوش کا یارا نہیں ہمیںاس قوم پر خدا نے اتارا نہیں ہمیںسراج الدین ظفر
- اور کھل جا کہ معارف کی گزر گاہوں میںپیچ اے زلف سیہ فام ابھی باقی ہیںسراج الدین ظفر
- اے اہل نظر سوز ہمیں ساز ہمیں ہیںعالم میں پس پردۂ پرواز ہمیں ہیںسراج الدین ظفر
- بغیر ساغر و یار جواں نہیں گزرےہماری عمر کے دن رائیگاں نہیں گزرےسراج الدین ظفر
- پھرتی ہے جستجو میں نسیم وطن کہاںاب میں خزاں رسیدہ کہاں اور چمن کہاںسراج الدین ظفر
- در مے خانہ سے دیوار چمن تک پہنچےہم غزالوں کے تعاقب میں ختن تک پہنچےسراج الدین ظفر
- دن کو بحر و بر کا سینہ چیر کر رکھ دیجئےرات کو پھر پائے گل رویاں پہ سر رکھ دیجئےسراج الدین ظفر
- رہین بیم ہستی ہے دل دیوانہ برسوں سےہوا کی زد میں ہے اپنا چراغ خانہ برسوں سےسراج الدین ظفر
- ساغر اٹھا کے زہد کو رد ہم نے کر دیاپھر زندگی کے جزر کو مد ہم نے کر دیاسراج الدین ظفر
- سب ماسوائے عشق فریب سراب ہےمیں بھی ہوں خواب میری جوانی بھی خواب ہےسراج الدین ظفر
- شاید رخ حیات سے سرکے نقاب اوربھر دو مرے سبو میں شراب گلاب اورسراج الدین ظفر
- شوق راتوں کو ہے درپئے کہ تپاں ہو جاؤںرقص وحشت میں اٹھوں اور دھواں ہو جاؤںسراج الدین ظفر
- عشق کو کائنات کا مقصد و مدعا سمجھپھر ترا ظرف ہے اسے درد سمجھ دوا سمجھسراج الدین ظفر
- عشق میں کیا ہاتھوں سے کسی کے دامن ہستی چھوٹ گیاشمع کوئی خاموش ہوئی یا کوئی ستارا ٹوٹ گیاسراج الدین ظفر
- کوئی رنج ہے نہ شکایتیں مجھے اپنے ہوش پریدہ سےیہ وہ شمع تھی جو بھڑک اٹھی مری آہ نیم کشیدہ سےسراج الدین ظفر
- لائی نہیں پیام کوئی زلف یار سےمجھ کو شکایتیں ہیں نسیم بہار سےسراج الدین ظفر
- موسم گل ترے انعام ابھی باقی ہیںشہر میں اور گل اندام ابھی باقی ہیںسراج الدین ظفر
- میں نے کہا کہ تجزیۂ جسم و جاں کرواس نے کہا یہ بات سپرد بتاں کروسراج الدین ظفر
- ہم آہوان شب کا بھرم کھولتے رہےمیزان دلبری پہ انہیں تولتے رہےسراج الدین ظفر
- ہم دل زہرہ وشاں میں خالق اندیشہ ہیںگو خراباتی سہی جبریل کے ہم پیشہ ہیںسراج الدین ظفر
- یا رب سراب اہل ہوس سے نجات دےمجھ کو شراب دے انہیں آب حیات دےسراج الدین ظفر
- ذوق نمو کو منزل دوست میں آ کے بھول جااس طرح بے نیاز ہو سر کو جھکا کے بھول جاسراج الدین ظفر
- الفت نے تری ہم کو تو رکھا نہ کہیں کادریا کا نہ جنگل کا سما کا نہ زمیں کاواجد علی شاہ
- اللہ اے بتو ہمیں دکھلائے لکھنؤسوتے میں بھی یہ کہتے ہیں ہم ہائے لکھنؤواجد علی شاہ
- اے نسیم سحری ہم تو ہوا ہوتے ہیںدم جو گھٹتا ہے محبت میں خفا ہوتے ہیںواجد علی شاہ
- برباد نہ کر اس کو ذرا ہاتھ پہ دھر لااے باد صبا خاک در یار ادھر لاواجد علی شاہ
- جا بیٹھتے ہو غیروں میں غیرت نہیں آتیاس وقت مری جان مروت نہیں آتیواجد علی شاہ
- چاک چاک اپنا گریباں نہ ہوا تھا سو ہواوحشت دل کا جو ساماں نہ ہوا تھا سو ہواواجد علی شاہ
- حال دل اے بتو خدا جانےسچ ہے سچ اس کو غیر کیا جانےواجد علی شاہ
- دستار فقیرانہ اک تاج سے افزوں ہےراہ طرح خم خانہ معراج سے افزوں ہےواجد علی شاہ
- دکھاتے ہیں جو یہ صنم دیکھتے ہیںخدا کی خدائی کو ہم دیکھتے ہیںواجد علی شاہ
- سنا ہے کوچ تو ان کا پر اس کو کیا کہیےزبان خلق کو نقارۂ خدا کہیےواجد علی شاہ
- سہے غم پئے رفتگاں کیسے کیسےمرے کھو گئے کارواں کیسے کیسےواجد علی شاہ
- عشق سے کچھ کام نے کچھ کوئے جاناں سے غرضگل سے مطلب ہے نہ کچھ خار بیاباں سے غرضواجد علی شاہ