رشتہ الفت کو توڑوں کس طرح
سعادت یار خان رنگینرشتہ الفت کو توڑوں کس طرح
عشق سے میں منہ کو موڑوں کس طرح
پونچھنے سے اشک کے فرصت نہیں
آستیں کو میں نچوڑوں کس طرح
بعد مدت ہاتھ آیا ہے مرے
اب میں اس کو چھوڑوں کس طرح
وہ لگاتا ہی نہیں چھاتی کو ہاتھ
اپنی چھاتی میں مروڑوں کس طرح
شیشہ دل توڑ کر رنگیںؔ مرا
اب تو کہتا ہے میں جوڑوں کس طرح