Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. پرائی آگ پہ روٹی نہیں بناؤں گامیں بھیگ جاؤں گا چھتری نہیں بناؤں گاTahzeeb Hafi
  2. تاریکیوں کو آگ لگے اور دیا جلےیہ رات بین کرتی رہے اور دیا جلےTahzeeb Hafi
  3. تو نے کیا قندیل جلا دی شہزادیسرخ ہوئی جاتی ہے وادی شہزادیTahzeeb Hafi
  4. تیرا چپ رہنا مرے ذہن میں کیا بیٹھ گیااتنی آوازیں تجھے دیں کہ گلا بیٹھ گیاTahzeeb Hafi
  5. جانے والے سے رابطہ رہ جائےگھر کی دیوار پر دیا رہ جائےTahzeeb Hafi
  6. جب اس کی تصویر بنایا کرتا تھاکمرا رنگوں سے بھر جایا کرتا تھاTahzeeb Hafi
  7. جب کسی ایک کو رہا کیا جائےسب اسیروں سے مشورہ کیا جائےTahzeeb Hafi
  8. چہرہ دیکھیں تیرے ہونٹ اور پلکیں دیکھیںدل پہ آنکھیں رکھیں تیری سانسیں دیکھیںTahzeeb Hafi
  9. چیختے ہیں در و دیوار نہیں ہوتا میںآنکھ کھلنے پہ بھی بیدار نہیں ہوتا میںTahzeeb Hafi
  10. خود پہ جب دشت کی وحشت کو مسلط کروں گااس قدر خاک اڑاؤں گا قیامت کروں گاTahzeeb Hafi
  11. دل کسی سمت کسی سمت قدم جاتا ہےتیرے موجود کے چکر میں عدم جاتا ہےTahzeeb Hafi
  12. دل محبت میں مبتلا ہو جائےجو ابھی تک نہ ہو سکا ہو جائےTahzeeb Hafi
  13. رات کو دیپ کی لو کم نہیں رکھی جاتیدھندھ میں روشنی مدھم نہیں رکھی جاتیTahzeeb Hafi
  14. زخموں نے مجھ میں دروازے کھولے ہیںمیں نے وقت سے پہلے ٹانکے کھولے ہیںTahzeeb Hafi
  15. سب کی کہانی ایک طرف ہے میرا قصہ ایک طرفایک طرف سیراب ہیں سارے اور میں پیاسا ایک طرفTahzeeb Hafi
  16. سو رہیں گے کہ جاگتے رہیں گےہم ترے خواب دیکھتے رہیں گےTahzeeb Hafi
  17. شور کروں گا اور نہ کچھ بھی بولوں گاخاموشی سے اپنا رونا رو لوں گاTahzeeb Hafi
  18. صحرا سے آنے والی ہواؤں میں ریت ہےہجرت کروں گا گاؤں سے گاؤں میں ریت ہےTahzeeb Hafi
  19. عجیب خواب تھا اس کے بدن میں کائی تھیوہ اک پری جو مجھے سبز کرنے آئی تھیTahzeeb Hafi
  20. قدم رکھتا ہے جب رستوں پہ یار آہستہ آہستہتو چھٹ جاتا ہے سب گرد و غبار آہستہ آہستہTahzeeb Hafi
  21. کچھ ضرورت سے کم کیا گیا ہےتیرے جانے کا غم کیا گیا ہےTahzeeb Hafi
  22. کسے خبر ہے کہ عمر بس اس پہ غور کرنے میں کٹ رہی ہےکہ یہ اداسی ہمارے جسموں سے کس خوشی میں لپٹ رہی ہےTahzeeb Hafi
  23. موسموں کے تغیر کو بھانپا نہیں چھتریاں کھول دیںزخم بھرنے سے پہلے کسی نے مری پٹیاں کھول دیںTahzeeb Hafi
  24. میں نے یہ کب کہا ہے کہ وہ مجھ کو تنہا نہیں چھوڑتاچھوڑتا ہے مگر ایک دن سے زیادہ نہیں چھوڑتاTahzeeb Hafi
  25. نہ نیند اور نہ خوابوں سے آنکھ بھرنی ہےکہ اس سے ہم نے تجھے دیکھنے کی کرنی ہےTahzeeb Hafi
  26. ویسے میں نے دنیا میں کیا دیکھا ہےتم کہتے ہو تو پھر اچھا دیکھا ہےTahzeeb Hafi
  27. ہم تمہارے غم سے باہر آ گئےہجر سے بچنے کے منتر آ گئےTahzeeb Hafi
  28. یہ ایک بات سمجھنے میں رات ہو گئی ہےمیں اس سے جیت گیا ہوں کہ مات ہو گئی ہےTahzeeb Hafi
  29. یہ کس نے باغ سے اس شخص کو بلا لیا ہےپرند اڑ گئے پیڑوں نے منہ بنا لیا ہےTahzeeb Hafi
  30. اک اشارے سے دیوار دل کی دراڑوں میں تو نے جو روشن کیے تھے چراغان کے بجھنے کا دکھ ایک جیسا ہے دونوں طرفTahzeeb Hafi
  31. تو کسی اور ہی دنیا میں ملی تھی مجھ سےتو کسی اور ہی منظر کی مہک لائی تھیTahzeeb Hafi
  32. سفید شرٹ تھی تم سیڑھیوں پہ بیٹھے تھےمیں جب کلاس سے نکلی تھی مسکراتے ہوئےTahzeeb Hafi
  33. میں سپنوں میںآکسیجن پلانٹ انسٹال کر رہا ہوںTahzeeb Hafi
  34. ترے پورے بدن پر اک مقدس آگ کا پہرہ ہےجو تیری طرف بڑھتے ہوئے ہاتھوں کے ناخن روک لیتا ہےTahzeeb Hafi
  35. تیرے ہونٹوں سے بہتی ہوئی یہ ہنسیدو جہانوں پہ نافذ نہ ہونے کا باعثTahzeeb Hafi
  36. جب وہ اس دنیا کے شور اور خاموشی سےقطع تعلق ہو کے انگلش میں غصہ کرتی ہےTahzeeb Hafi
  37. کتنا عرصہ لگا ناامیدی کے پربت سے پتھر ہٹاتے ہوئےایک بپھری ہوئی لہر کو رام کرتے ہوئےTahzeeb Hafi
  38. آ گیا جب سے نظر وہ شوخ ہرجائی مجھےکو بہ کو در در لیے پھرتی ہے رسوائی مجھےبخش ناسخ
  39. اب کی ہولی میں رہا بے کار رنگاور ہی لایا فراق یار رنگبخش ناسخ
  40. اپنے ابرو آئنے میں دیکھ کر بسمل ہواکھینچ کر تلوار اپنا آپ وہ قاتل ہوابخش ناسخ
  41. تو نے مہجور کر دیا ہم کوسخت رنجور کر دیا ہم کوبخش ناسخ
  42. جان ہم تجھ پہ دیا کرتے ہیںنام تیرا ہی لیا کرتے ہیںبخش ناسخ
  43. جب سے کہ بتوں سے آشنا ہوںبیگانہ خدائی سے ہوا ہوںبخش ناسخ
  44. جی لیتی ہے وہ زلف سیہ فام ہمارابجھتا ہے چراغ آج سر شام ہمارابخش ناسخ
  45. چوٹ دل کو جو لگے آہ رسا پیدا ہوصدمہ شیشہ کو جو پہنچے تو صدا پیدا ہوبخش ناسخ
  46. چین دنیا میں زمیں سے تا فلک دم بھر نہیںداغ ہیں یہ گل نہیں ناسور ہیں اختر نہیںبخش ناسخ
  47. دل میں پوشیدہ تپ عشق بتاں رکھتے ہیںآگ ہم سنگ کی مانند نہاں رکھتے ہیںبخش ناسخ
  48. رات بھر جو سامنے آنکھوں کے وہ مہ پارہ تھاغیرت مہتاب اپنا دامن نظارہ تھابخش ناسخ
  49. رفعت کبھی کسی کی گوارا یہاں نہیںجس سر زمیں کے ہم ہیں وہاں آسماں نہیںبخش ناسخ
  50. زور ہے گرمئ بازار ترے کوچے میںجمع ہیں تیرے خریدار ترے کوچے میںبخش ناسخ