Poetry
Poet
Meter
- پرائی آگ پہ روٹی نہیں بناؤں گامیں بھیگ جاؤں گا چھتری نہیں بناؤں گاTahzeeb Hafi
- تاریکیوں کو آگ لگے اور دیا جلےیہ رات بین کرتی رہے اور دیا جلےTahzeeb Hafi
- تو نے کیا قندیل جلا دی شہزادیسرخ ہوئی جاتی ہے وادی شہزادیTahzeeb Hafi
- تیرا چپ رہنا مرے ذہن میں کیا بیٹھ گیااتنی آوازیں تجھے دیں کہ گلا بیٹھ گیاTahzeeb Hafi
- جانے والے سے رابطہ رہ جائےگھر کی دیوار پر دیا رہ جائےTahzeeb Hafi
- جب اس کی تصویر بنایا کرتا تھاکمرا رنگوں سے بھر جایا کرتا تھاTahzeeb Hafi
- جب کسی ایک کو رہا کیا جائےسب اسیروں سے مشورہ کیا جائےTahzeeb Hafi
- چہرہ دیکھیں تیرے ہونٹ اور پلکیں دیکھیںدل پہ آنکھیں رکھیں تیری سانسیں دیکھیںTahzeeb Hafi
- چیختے ہیں در و دیوار نہیں ہوتا میںآنکھ کھلنے پہ بھی بیدار نہیں ہوتا میںTahzeeb Hafi
- خود پہ جب دشت کی وحشت کو مسلط کروں گااس قدر خاک اڑاؤں گا قیامت کروں گاTahzeeb Hafi
- دل کسی سمت کسی سمت قدم جاتا ہےتیرے موجود کے چکر میں عدم جاتا ہےTahzeeb Hafi
- دل محبت میں مبتلا ہو جائےجو ابھی تک نہ ہو سکا ہو جائےTahzeeb Hafi
- رات کو دیپ کی لو کم نہیں رکھی جاتیدھندھ میں روشنی مدھم نہیں رکھی جاتیTahzeeb Hafi
- زخموں نے مجھ میں دروازے کھولے ہیںمیں نے وقت سے پہلے ٹانکے کھولے ہیںTahzeeb Hafi
- سب کی کہانی ایک طرف ہے میرا قصہ ایک طرفایک طرف سیراب ہیں سارے اور میں پیاسا ایک طرفTahzeeb Hafi
- سو رہیں گے کہ جاگتے رہیں گےہم ترے خواب دیکھتے رہیں گےTahzeeb Hafi
- شور کروں گا اور نہ کچھ بھی بولوں گاخاموشی سے اپنا رونا رو لوں گاTahzeeb Hafi
- صحرا سے آنے والی ہواؤں میں ریت ہےہجرت کروں گا گاؤں سے گاؤں میں ریت ہےTahzeeb Hafi
- عجیب خواب تھا اس کے بدن میں کائی تھیوہ اک پری جو مجھے سبز کرنے آئی تھیTahzeeb Hafi
- قدم رکھتا ہے جب رستوں پہ یار آہستہ آہستہتو چھٹ جاتا ہے سب گرد و غبار آہستہ آہستہTahzeeb Hafi
- کچھ ضرورت سے کم کیا گیا ہےتیرے جانے کا غم کیا گیا ہےTahzeeb Hafi
- کسے خبر ہے کہ عمر بس اس پہ غور کرنے میں کٹ رہی ہےکہ یہ اداسی ہمارے جسموں سے کس خوشی میں لپٹ رہی ہےTahzeeb Hafi
- موسموں کے تغیر کو بھانپا نہیں چھتریاں کھول دیںزخم بھرنے سے پہلے کسی نے مری پٹیاں کھول دیںTahzeeb Hafi
- میں نے یہ کب کہا ہے کہ وہ مجھ کو تنہا نہیں چھوڑتاچھوڑتا ہے مگر ایک دن سے زیادہ نہیں چھوڑتاTahzeeb Hafi
- نہ نیند اور نہ خوابوں سے آنکھ بھرنی ہےکہ اس سے ہم نے تجھے دیکھنے کی کرنی ہےTahzeeb Hafi
- ویسے میں نے دنیا میں کیا دیکھا ہےتم کہتے ہو تو پھر اچھا دیکھا ہےTahzeeb Hafi
- ہم تمہارے غم سے باہر آ گئےہجر سے بچنے کے منتر آ گئےTahzeeb Hafi
- یہ ایک بات سمجھنے میں رات ہو گئی ہےمیں اس سے جیت گیا ہوں کہ مات ہو گئی ہےTahzeeb Hafi
- یہ کس نے باغ سے اس شخص کو بلا لیا ہےپرند اڑ گئے پیڑوں نے منہ بنا لیا ہےTahzeeb Hafi
- اک اشارے سے دیوار دل کی دراڑوں میں تو نے جو روشن کیے تھے چراغان کے بجھنے کا دکھ ایک جیسا ہے دونوں طرفTahzeeb Hafi
- تو کسی اور ہی دنیا میں ملی تھی مجھ سےتو کسی اور ہی منظر کی مہک لائی تھیTahzeeb Hafi
- سفید شرٹ تھی تم سیڑھیوں پہ بیٹھے تھےمیں جب کلاس سے نکلی تھی مسکراتے ہوئےTahzeeb Hafi
- میں سپنوں میںآکسیجن پلانٹ انسٹال کر رہا ہوںTahzeeb Hafi
- ترے پورے بدن پر اک مقدس آگ کا پہرہ ہےجو تیری طرف بڑھتے ہوئے ہاتھوں کے ناخن روک لیتا ہےTahzeeb Hafi
- تیرے ہونٹوں سے بہتی ہوئی یہ ہنسیدو جہانوں پہ نافذ نہ ہونے کا باعثTahzeeb Hafi
- جب وہ اس دنیا کے شور اور خاموشی سےقطع تعلق ہو کے انگلش میں غصہ کرتی ہےTahzeeb Hafi
- کتنا عرصہ لگا ناامیدی کے پربت سے پتھر ہٹاتے ہوئےایک بپھری ہوئی لہر کو رام کرتے ہوئےTahzeeb Hafi
- آ گیا جب سے نظر وہ شوخ ہرجائی مجھےکو بہ کو در در لیے پھرتی ہے رسوائی مجھےبخش ناسخ
- اب کی ہولی میں رہا بے کار رنگاور ہی لایا فراق یار رنگبخش ناسخ
- اپنے ابرو آئنے میں دیکھ کر بسمل ہواکھینچ کر تلوار اپنا آپ وہ قاتل ہوابخش ناسخ
- تو نے مہجور کر دیا ہم کوسخت رنجور کر دیا ہم کوبخش ناسخ
- جان ہم تجھ پہ دیا کرتے ہیںنام تیرا ہی لیا کرتے ہیںبخش ناسخ
- جب سے کہ بتوں سے آشنا ہوںبیگانہ خدائی سے ہوا ہوںبخش ناسخ
- جی لیتی ہے وہ زلف سیہ فام ہمارابجھتا ہے چراغ آج سر شام ہمارابخش ناسخ
- چوٹ دل کو جو لگے آہ رسا پیدا ہوصدمہ شیشہ کو جو پہنچے تو صدا پیدا ہوبخش ناسخ
- چین دنیا میں زمیں سے تا فلک دم بھر نہیںداغ ہیں یہ گل نہیں ناسور ہیں اختر نہیںبخش ناسخ
- دل میں پوشیدہ تپ عشق بتاں رکھتے ہیںآگ ہم سنگ کی مانند نہاں رکھتے ہیںبخش ناسخ
- رات بھر جو سامنے آنکھوں کے وہ مہ پارہ تھاغیرت مہتاب اپنا دامن نظارہ تھابخش ناسخ
- رفعت کبھی کسی کی گوارا یہاں نہیںجس سر زمیں کے ہم ہیں وہاں آسماں نہیںبخش ناسخ
- زور ہے گرمئ بازار ترے کوچے میںجمع ہیں تیرے خریدار ترے کوچے میںبخش ناسخ