Poetry
Poet
Meter
- سب کی سب کیا ہیں شب قدر ہماری راتیںکٹتی ہیں آنکھوں ہی میں ہجر کی ساری راتیںبخش ناسخ
- سب ہمارے لیے زنجیر لیے پھرتے ہیںہم سر زلف گرہ گیر لیے پھرتے ہیںبخش ناسخ
- سو قصوں سے بہتر ہے کہانی مرے دل کیسن اس کو تو اے جان زبانی مرے دل کیبخش ناسخ
- صاف قاصد کو واں جواب ملامیرے خط کا یہی جواب ملابخش ناسخ
- صنم کوچہ ترا ہے اور میں ہوںیہ زندان دغا ہے اور میں ہوںبخش ناسخ
- قامت یار کو ہم یاد کیا کرتے ہیںسرو کو صدقے میں آزاد کیا کرتے ہیںبخش ناسخ
- کرتی ہے مجھے قتل مرے یار کی رفتارتلوار کی تلوار ہے رفتار کی رفتاربخش ناسخ
- کون سا تن ہے کہ مثل روح اس میں تو نہیںکون گل ہے جو ترا مسکن برنگ بو نہیںبخش ناسخ
- گو یہ غم ہے کہ وہ حبیب نہیںپر خوشی ہے کوئی رقیب نہیںبخش ناسخ
- لیتے لیتے کروٹیں تجھ بن جو گھبراتا ہوں میںنام لے لے کر ترا راتوں کو چلاتا ہوں میںبخش ناسخ
- مجھ سے اب صاف بھی ہو جا یوں ہی یار آپ سے آپجس طرح ہے تری خاطر میں غبار آپ سے آپبخش ناسخ
- مجھ کو اب ساقیٔ گلفام سے کچھ کام نہیںمے سے کچھ کام نہیں جام سے کچھ کام نہیںبخش ناسخ
- مجھ کو فرقت کی اسیری سے رہائی ہوتیکاش عیسیٰ کے عوض موت ہی آئی ہوتیبخش ناسخ
- مرا سینہ ہے مشرق آفتاب داغ ہجراں کاطلوع صبح محشر چاک ہے میرے گریباں کابخش ناسخ
- مزہ وصال کا کیا گر فراق یار نہ ہونہیں ہے نشے کی کچھ قدر اگر خمار نہ ہوبخش ناسخ
- مے سے روشن رہے ایاغ اپناگل نہ ہو ساقیا چراغ اپنابخش ناسخ
- وہ بیزار مجھ سے ہوا زار میں ہوںوہ مے خوار غیروں میں ہے خوار میں ہوںبخش ناسخ
- وہ روئے کتابی تو ہے قرآن ہماراکہتے ہیں جسے عشق ہے ایمان ہمارابخش ناسخ
- ہائے لایا نہ کوئی قاصد دلبر کاغذہو گیا غم سے ہمارا تن لاغر کاغذبخش ناسخ
- ہماری کیف سزاوار احتساب نہیںخیال چشم ہے کچھ ساغر شراب نہیںبخش ناسخ
- ہوئے رونے سے مرے دیدۂ بے دار سفیدبلکہ اشکوں نے کیا رنگ شب تار سفیدبخش ناسخ
- ہیں اشک مری آنکھوں میں قلزم سے زیادہہیں داغ مرے سینے میں انجم سے زیادہبخش ناسخ
- ہے تصور مجھے ہر دم تری یکتائی کامشغلہ آٹھ پہر ہے یہی تنہائی کابخش ناسخ
- ہے دل سوزاں میں طور اس کی تجلی گاہ کاروئے آتش ناک ہر شعلہ ہے میری آہ کابخش ناسخ
- ہے محبت سب کو اس کے ابروئے خم دار کیہند میں کیا آبرو باقی رہی تلوار کیبخش ناسخ
- یاد آتی ہیں ہمیں جان تمہاری باتیںہائے وہ پیار کی آواز وہ پیاری باتیںبخش ناسخ
- یوں مجھے آپ سے اب کرتی ہے تقدیر جداجس طرح جنگ میں ہو قبضے سے شمشیر جدابخش ناسخ
- یہ جسم زار ہے یوں پیرہن کے پردے میںکہ جیسے روح نہاں ہے بدن کے پردے میںبخش ناسخ
- یاروں کی ہم سے دل شکنی ہو سکے کہاںیاں پاس ہے نہ خاطر اغیار توڑیئےبخش ناسخ
- آتا ہوں جب اس گلی سے سو سو خواری کھینچ کرپھر وہیں لے جائے مجھ کو بے قراری کھینچ کرحسرت عظیم آبادی
- آشنا کب ہو ہے یہ ذکر دل شاد کے ساتھلب کو نسبت ہے مرے زمزمۂ داد کے ساتھحسرت عظیم آبادی
- آئے ہیں ہم جہاں میں غم لے کردل پر خوں و چشم نم لے کرحسرت عظیم آبادی
- اب تجھ سے پھرا یہ دل ناکام ہمارااس کوچے میں کم ہی رہے گا کام ہماراحسرت عظیم آبادی
- اس زلف سے دل ہو کر آزاد بہت رویایہ سلسلۂ الفت کر یاد بہت رویاحسرت عظیم آبادی
- ان دونوں گھر کا خانہ خدا کون غیر ہےشیخ حرم عبث تھے انکار دیر ہےحسرت عظیم آبادی
- ایک دم خشک مرا دیدۂ تر ہے کہ نہیںماجرے سے مرے تجھ کو بھی خبر ہے کہ نہیںحسرت عظیم آبادی
- بے وفا گو ملے نہ تو مجھ کوبس ہے تیری یہ آرزو مجھ کوحسرت عظیم آبادی
- پھری سی دیکھتا ہوں اس چمن کی کچھ ہوا بلبلتجھے فرصت ہے جب تک آشیاں یاں سے اٹھا بلبلحسرت عظیم آبادی
- جان کر کہتا ہے ہم سے اپنے جانے کی خبرجی ڈوبا دیتی ہے میرا یہ بہانے کی خبرحسرت عظیم آبادی
- جس کا میسر نہ تھا بھر کے نظر دیکھناکہتا ہے خط آئے پر ٹک تو ادھر دیکھناحسرت عظیم آبادی
- جو ہمیں چاہے اس کے چاکر ہیںیار شاطر نہ بار خاطر ہیںحسرت عظیم آبادی
- چاہے سو ہمیں کر تو گنہ گار ہیں تیرےتقدیر تھی اپنی کہ گرفتار ہیں تیرےحسرت عظیم آبادی
- حسن کو اس کے خط کا داغ لگاپر ہمیں تو بہار و باغ لگاحسرت عظیم آبادی
- دامن ہے میرا دشت کا دامان دوسرامیری طرح نہ پھاڑے گریبان دوسراحسرت عظیم آبادی
- دل نے پایا جو مرے مژدہ تری پاتی کامنہ پھرا سوئے بدن جان بلب آتی کاحسرت عظیم آبادی
- دیکھیں تجھے نہ آویں گے ہمکہنا نہیں کر دکھاویں گے ہمحسرت عظیم آبادی
- راہ رستے میں تو یوں رہتا ہے آ کر ہم سے ملکم گیا لیکن وہ یار خانگی گھر ہم سے ملحسرت عظیم آبادی
- رکھا پا جہاں میں نگارا زمیں پربہت سر کو واں ہم نے مارا زمیں پرحسرت عظیم آبادی
- ساقی ہیں روز نو بہار یک دو سہ چار پنج و ششدے مجھے جام خوش گوار یک دو سہ چار پنج و ششحسرت عظیم آبادی
- سینہ تو ڈھونڈ لیا متصل اپنا ہم نےنہیں معلوم دیا کس کو دل اپنا ہم نےحسرت عظیم آبادی