Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. سب کی سب کیا ہیں شب قدر ہماری راتیںکٹتی ہیں آنکھوں ہی میں ہجر کی ساری راتیںبخش ناسخ
  2. سب ہمارے لیے زنجیر لیے پھرتے ہیںہم سر زلف گرہ گیر لیے پھرتے ہیںبخش ناسخ
  3. سو قصوں سے بہتر ہے کہانی مرے دل کیسن اس کو تو اے جان زبانی مرے دل کیبخش ناسخ
  4. صاف قاصد کو واں جواب ملامیرے خط کا یہی جواب ملابخش ناسخ
  5. صنم کوچہ ترا ہے اور میں ہوںیہ زندان دغا ہے اور میں ہوںبخش ناسخ
  6. قامت یار کو ہم یاد کیا کرتے ہیںسرو کو صدقے میں آزاد کیا کرتے ہیںبخش ناسخ
  7. کرتی ہے مجھے قتل مرے یار کی رفتارتلوار کی تلوار ہے رفتار کی رفتاربخش ناسخ
  8. کون سا تن ہے کہ مثل روح اس میں تو نہیںکون گل ہے جو ترا مسکن برنگ بو نہیںبخش ناسخ
  9. گو یہ غم ہے کہ وہ حبیب نہیںپر خوشی ہے کوئی رقیب نہیںبخش ناسخ
  10. لیتے لیتے کروٹیں تجھ بن جو گھبراتا ہوں میںنام لے لے کر ترا راتوں کو چلاتا ہوں میںبخش ناسخ
  11. مجھ سے اب صاف بھی ہو جا یوں ہی یار آپ سے آپجس طرح ہے تری خاطر میں غبار آپ سے آپبخش ناسخ
  12. مجھ کو اب ساقیٔ گلفام سے کچھ کام نہیںمے سے کچھ کام نہیں جام سے کچھ کام نہیںبخش ناسخ
  13. مجھ کو فرقت کی اسیری سے رہائی ہوتیکاش عیسیٰ کے عوض موت ہی آئی ہوتیبخش ناسخ
  14. مرا سینہ ہے مشرق آفتاب داغ ہجراں کاطلوع صبح محشر چاک ہے میرے گریباں کابخش ناسخ
  15. مزہ وصال کا کیا گر فراق یار نہ ہونہیں ہے نشے کی کچھ قدر اگر خمار نہ ہوبخش ناسخ
  16. مے سے روشن رہے ایاغ اپناگل نہ ہو ساقیا چراغ اپنابخش ناسخ
  17. وہ بیزار مجھ سے ہوا زار میں ہوںوہ مے خوار غیروں میں ہے خوار میں ہوںبخش ناسخ
  18. وہ روئے کتابی تو ہے قرآن ہماراکہتے ہیں جسے عشق ہے ایمان ہمارابخش ناسخ
  19. ہائے لایا نہ کوئی قاصد دلبر کاغذہو گیا غم سے ہمارا تن لاغر کاغذبخش ناسخ
  20. ہماری کیف سزاوار احتساب نہیںخیال چشم ہے کچھ ساغر شراب نہیںبخش ناسخ
  21. ہوئے رونے سے مرے دیدۂ بے دار سفیدبلکہ اشکوں نے کیا رنگ شب تار سفیدبخش ناسخ
  22. ہیں اشک مری آنکھوں میں قلزم سے زیادہہیں داغ مرے سینے میں انجم سے زیادہبخش ناسخ
  23. ہے تصور مجھے ہر دم تری یکتائی کامشغلہ آٹھ پہر ہے یہی تنہائی کابخش ناسخ
  24. ہے دل سوزاں میں طور اس کی تجلی گاہ کاروئے آتش ناک ہر شعلہ ہے میری آہ کابخش ناسخ
  25. ہے محبت سب کو اس کے ابروئے خم دار کیہند میں کیا آبرو باقی رہی تلوار کیبخش ناسخ
  26. یاد آتی ہیں ہمیں جان تمہاری باتیںہائے وہ پیار کی آواز وہ پیاری باتیںبخش ناسخ
  27. یوں مجھے آپ سے اب کرتی ہے تقدیر جداجس طرح جنگ میں ہو قبضے سے شمشیر جدابخش ناسخ
  28. یہ جسم زار ہے یوں پیرہن کے پردے میںکہ جیسے روح نہاں ہے بدن کے پردے میںبخش ناسخ
  29. یاروں کی ہم سے دل شکنی ہو سکے کہاںیاں پاس ہے نہ خاطر اغیار توڑیئےبخش ناسخ
  30. آتا ہوں جب اس گلی سے سو سو خواری کھینچ کرپھر وہیں لے جائے مجھ کو بے قراری کھینچ کرحسرت عظیم آبادی
  31. آشنا کب ہو ہے یہ ذکر دل شاد کے ساتھلب کو نسبت ہے مرے زمزمۂ داد کے ساتھحسرت عظیم آبادی
  32. آئے ہیں ہم جہاں میں غم لے کردل پر خوں و چشم نم لے کرحسرت عظیم آبادی
  33. اب تجھ سے پھرا یہ دل ناکام ہمارااس کوچے میں کم ہی رہے گا کام ہماراحسرت عظیم آبادی
  34. اس زلف سے دل ہو کر آزاد بہت رویایہ سلسلۂ الفت کر یاد بہت رویاحسرت عظیم آبادی
  35. ان دونوں گھر کا خانہ خدا کون غیر ہےشیخ حرم عبث تھے انکار دیر ہےحسرت عظیم آبادی
  36. ایک دم خشک مرا دیدۂ تر ہے کہ نہیںماجرے سے مرے تجھ کو بھی خبر ہے کہ نہیںحسرت عظیم آبادی
  37. بے وفا گو ملے نہ تو مجھ کوبس ہے تیری یہ آرزو مجھ کوحسرت عظیم آبادی
  38. پھری سی دیکھتا ہوں اس چمن کی کچھ ہوا بلبلتجھے فرصت ہے جب تک آشیاں یاں سے اٹھا بلبلحسرت عظیم آبادی
  39. جان کر کہتا ہے ہم سے اپنے جانے کی خبرجی ڈوبا دیتی ہے میرا یہ بہانے کی خبرحسرت عظیم آبادی
  40. جس کا میسر نہ تھا بھر کے نظر دیکھناکہتا ہے خط آئے پر ٹک تو ادھر دیکھناحسرت عظیم آبادی
  41. جو ہمیں چاہے اس کے چاکر ہیںیار شاطر نہ بار خاطر ہیںحسرت عظیم آبادی
  42. چاہے سو ہمیں کر تو گنہ گار ہیں تیرےتقدیر تھی اپنی کہ گرفتار ہیں تیرےحسرت عظیم آبادی
  43. حسن کو اس کے خط کا داغ لگاپر ہمیں تو بہار و باغ لگاحسرت عظیم آبادی
  44. دامن ہے میرا دشت کا دامان دوسرامیری طرح نہ پھاڑے گریبان دوسراحسرت عظیم آبادی
  45. دل نے پایا جو مرے مژدہ تری پاتی کامنہ پھرا سوئے بدن جان بلب آتی کاحسرت عظیم آبادی
  46. دیکھیں تجھے نہ آویں گے ہمکہنا نہیں کر دکھاویں گے ہمحسرت عظیم آبادی
  47. راہ رستے میں تو یوں رہتا ہے آ کر ہم سے ملکم گیا لیکن وہ یار خانگی گھر ہم سے ملحسرت عظیم آبادی
  48. رکھا پا جہاں میں نگارا زمیں پربہت سر کو واں ہم نے مارا زمیں پرحسرت عظیم آبادی
  49. ساقی ہیں روز نو بہار یک دو سہ چار پنج و ششدے مجھے جام خوش گوار یک دو سہ چار پنج و ششحسرت عظیم آبادی
  50. سینہ تو ڈھونڈ لیا متصل اپنا ہم نےنہیں معلوم دیا کس کو دل اپنا ہم نےحسرت عظیم آبادی