Poetry
Poet
Meter
- میں وہ محروم عنایت ہوں کہ جس نے تجھ سےملنا چاہا تو بچھڑنے کی وبا پھوٹ پڑیNaeem Zarrar Ahmad (b. 1965)
- اگر کچھ سرگرانی دے رہی ہےخوشی بھی زندگانی دے رہی ہےOnkar Singh Vivek (b. 1965)
- جھگیوں کا حق دبانا آ گیاکوٹھیوں کو ظلم ڈھانا آ گیاOnkar Singh Vivek (b. 1965)
- سبھی کے کام پر اس کی نظر ہےمگر انسان پھر بھی بے خبر ہےOnkar Singh Vivek (b. 1965)
- عاجزی تو ہے نہیں گفتار میںکون پوچھے گا ہمیں دربار میںOnkar Singh Vivek (b. 1965)
- کاش ایسا دیار آ جائےگلشنوں کی قطار آ جائےOnkar Singh Vivek (b. 1965)
- کام کا بھی ٹھکانا نہیں ہےاور گھر میں بھی دانہ نہیں ہےOnkar Singh Vivek (b. 1965)
- کچھ میٹھا کچھ کھارا پن ہےکیا کیا سواد لیے جیون ہےOnkar Singh Vivek (b. 1965)
- کھلے سے چوک چوبارے نہیں ہیںنگر میں اب وہ نظارے نہیں ہیںOnkar Singh Vivek (b. 1965)
- لطف کیا آئے گا شرافت میںآپ اب آ گئے سیاست میںOnkar Singh Vivek (b. 1965)
- محفل میں سب کو اپنا پرستار کر دیاشیریں زباں سے اس نے چمتکار کر دیاOnkar Singh Vivek (b. 1965)
- منہ پر تو کتنا رس گھولا جاتا ہےپیچھے جانے کیا کیا بولا جاتا ہےOnkar Singh Vivek (b. 1965)
- ایک مشکل کتاب جیسی تھیزندگی اک عذاب جیسی تھیVikas Joshi Wahid (b. 1965)
- درد دل میں نہ آنکھوں میں پانی رہےاپنے چہرے پہ بس شادمانی رہےVikas Joshi Wahid (b. 1965)
- ساتھ تیرا اگر نہیں ہوتاہم سے اتنا سفر نہیں ہوتاVikas Joshi Wahid (b. 1965)
- سفر میں اب نہیں پر آبلہ پائی نہیں جاتیہماری راستوں سے یوں شناسائی نہیں جاتیVikas Joshi Wahid (b. 1965)
- سہا عمر بھر پر جتایا نہیںترا زخم ہم نے دکھایا نہیںVikas Joshi Wahid (b. 1965)
- غموں سے بشر کو رہا دیکھناسلگتی کوئی جب چتا دیکھناVikas Joshi Wahid (b. 1965)
- ہم الگ سی ایک خوشبو جانتے ہیںہیں برہمن اور اردو جانتے ہیںVikas Joshi Wahid (b. 1965)
- یہ بار غم اٹھا کر دیکھتے ہیںتمہیں بھی آزما کر دیکھتے ہیںVikas Joshi Wahid (b. 1965)
- اچھا ہے تو نے ان دنوں دیکھا نہیں مجھےدنیا نے تیرے کام کا چھوڑا نہیں مجھےFaizi (b. 1965)
- اس لیے دل برا کیا ہی نہیںزندگی میرا فیصلہ ہی نہیںFaizi (b. 1965)
- جانتا ہوں کہ کئی لوگ ہیں بہتر مجھ سےپھر بھی خواہش ہے کہ دیکھو کبھی مل کر مجھ سےFaizi (b. 1965)
- جو دل کو پہلے میسر تھا کیا ہوا اس کاجو اس سکون سے بہتر تھا کیا ہوا اس کاFaizi (b. 1965)
- رات گہری ہے مگر ایک سہارا ہے مجھےیہ مری آنکھ کا آنسو ہی ستارا ہے مجھےFaizi (b. 1965)
- کوئی نام ہے نہ کوئی نشاں مجھے کیا ہوامیں بکھر گیا ہوں کہاں کہاں مجھے کیا ہواFaizi (b. 1965)
- تیری چشم کرم رہے محفوظآندھیوں میں بھی ہم رہے محفوظsaabir jauharii (b. 1965)
- جتنے بھی سورج کے نیزے تھے نکیلے ہو گئےزندگی کی شاخ کے سب پھول پیلے ہو گئےsaabir jauharii (b. 1965)
- دل جس کا آئنے کی طرح پاک صاف ہےکیا بات ہے زمانہ اسی کے خلاف ہےsaabir jauharii (b. 1965)
- کس ہنر مندی سے قتل تیرگی کرتے ہیں لوگمیرا کاشانہ جلا کر روشنی کرتے ہیں لوگsaabir jauharii (b. 1965)
- وہ خون انساں سے ہاتھ جن کے سنے ہوئے ہیںپیامبر امن و آشتی کے بنے ہوئے ہیںsaabir jauharii (b. 1965)
- کوئی فریاد ترے دل میں دبی ہو جیسےتو نے آنکھوں سے کوئی بات کہی ہو جیسےfaiz anwar (b. 1965)
- دیکھو تو سہی زیست کے امکان بھی ہوں گےشاید کہ اسی بھیڑ میں انسان بھی ہوں گےParvez akhtar (b. 1966)
- سب کی آنکھوں میں رہا کرتے تھےفرد ہیں قوم ہوا کرتے تھےParvez akhtar (b. 1966)
- طنز کرتا ہے آئنہ مجھ پروقت کیسا یہ آ پڑا مجھ پرParvez akhtar (b. 1966)
- عشق کو زہر کیوں پلاوے ہےعشق تو راستہ دکھاوے ہےParvez akhtar (b. 1966)
- کسی سے کہیں جی لگانے سے پہلےذرا پوچھ لیتے زمانے سے پہلےParvez akhtar (b. 1966)
- موسموں کی سختیاںالحفیظ و الاماںParvez akhtar (b. 1966)
- ہوا ہے نہ ہوگا زمانہ کسی کااٹھانا کسی کو گرانا کسی کاParvez akhtar (b. 1966)
- ہے دل توڑنا تیری فطرت سنا میںاور اس کی کوئی حد نہ مدت سنا میںParvez akhtar (b. 1966)
- یہاں کسے ہنسنے کی فرصت رکھی ہےایک سے نمٹو دوسری آفت رکھی ہےParvez akhtar (b. 1966)
- ہم غبار رہ گزرہے یہ قصہ مختصرParvez akhtar (b. 1966)
- سارے پتھر نہیں ہوتے ہیں ملامت کا نشاںوہ بھی پتھر ہے جو منزل کا نشاں دیتا ہےParvez akhtar (b. 1966)
- انقلاب دہر رک رک کر جواں بنتا گیاجو سبک سر تھا وہی سنگ راں بنتا گیاKaleem Ahmadabadi (b. 1966)
- بلند و پست حقیقت سے آشنا نہ ہواوہ دل کہ جس میں کوئی حرف مدعا نہ ہواKaleem Ahmadabadi (b. 1966)
- تیری تسکیں کا سبب کون و مکاں ہے کہ نہیںروح پرور یہ جہان گزراں ہے کہ نہیںKaleem Ahmadabadi (b. 1966)
- زور بازو بھی ہے اور سامنے نخچیر بھی ہےدیکھنا یہ ہے کہ ترکش میں کوئی تیر بھی ہےKaleem Ahmadabadi (b. 1966)
- سرور و کیف ہے کچھ لذت بقا تو نہیںیہ ابتدا کی حقیقت ہے انتہا تو نہیںKaleem Ahmadabadi (b. 1966)
- کون لے گیا دل سے سوز و ساز رعنائیصبح سے جھلکتی ہے آج شام تنہائیKaleem Ahmadabadi (b. 1966)
- محبت میں نہ جاں کو جاں نہ دل کو دل سمجھتے ہیںاسے آساں بناتے ہیں جسے مشکل سمجھتے ہیںKaleem Ahmadabadi (b. 1966)