دل جس کا آئنے کی طرح پاک صاف ہے

saabir jauharii (b. 1965)

دل جس کا آئنے کی طرح پاک صاف ہے

کیا بات ہے زمانہ اسی کے خلاف ہے

وہ شخص کر رہا ہے محبت کا قتل عام

نفرت کا جس کی فکر پہ ہر دم غلاف ہے

سجدہ نماز شوق کا کرتی ہیں تتلیاں

دامن ہر ایک گل کا بہت پاک صاف ہے

ہم نے خدا بنا دیا جس کو تراش کر

وہ سنگ راہ آج ہمارے خلاف ہے

دنیا سمجھ رہی ہے مجھے صاحب زباں

میرا بھی پر درست کہاں شین قاف ہے

تو ہو رہا ہے لذت دنیا سے شاد کام

صابرؔ بتا یہ کیسا ترا اعتکاف ہے