Poetry
Poet
Meter
- یہ محبت ہے محبت سرگرانی ہو تو کیاشدت غم سے جگر کا خون پانی ہو تو کیاKaleem Ahmadabadi (b. 1966)
- آ کے جب خواب تمہارے نے کہا بسم اللہدل مسافر تھکے ہارے نے کہا بسم اللہZafar Ajmi (b. 1966)
- امید صبح بہاراں خزاں سے کھینچتے ہیںیہ تیر روز دل ناتواں سے کھینچتے ہیںZafar Ajmi (b. 1966)
- بدن سے روح تلک ہم لہو لہو ہوئے ہیںتمہارے عشق میں اب جا کے سرخ رو ہوئے ہیںZafar Ajmi (b. 1966)
- تو نے کیوں ہم سے توقع نہ مسافر رکھیہم نے تو جاں بھی ترے واسطے حاضر رکھیZafar Ajmi (b. 1966)
- جان بے تاب عجب تیرے ٹھکانے نکلےبارش سنگ میں سب آئنہ خانے نکلےZafar Ajmi (b. 1966)
- خوشا اے زخم کہ صورت نئی نکلتی ہےبجائے خون کے اب روشنی نکلتی ہےZafar Ajmi (b. 1966)
- ہر سمت شور بندہ و صاحب ہے شہر میںکیا عہد تلخ حفظ مراتب ہے شہر میںZafar Ajmi (b. 1966)
- یہ عہد کیا ہے کہ سب پر گراں گزرتا ہےیہ کیا طلسم ہے کیا امتحاں گزرتا ہےZafar Ajmi (b. 1966)
- اتنی آسانی سے گر تجھ کو خدا مل جائے گاپھر تو تیری وحشتوں کو حوصلہ مل جائے گاChandra Shekhar Varma (b. 1967)
- ارادے نیک ہیں نیت کھری ہےتمہاری جیب پھر کیسے بھری ہےChandra Shekhar Varma (b. 1967)
- ایک تو پتھر اچھالا جا رہا ہےاس پہ شیشہ بھی سنبھالا جا رہا ہےChandra Shekhar Varma (b. 1967)
- بات سن لے گا خدا امین کہناپڑھ کے تم اپنی دعا آمین کہناChandra Shekhar Varma (b. 1967)
- بجھا ڈالے ہوا نے شہر کے سارے دیے پراسے افسوس رتی بھر نہیں اپنے کئے پرChandra Shekhar Varma (b. 1967)
- ترے گواہ نے کیسا بیان رکھا ہےکہا ہے جھوٹ مگر سچ کا دھیان رکھا ہےChandra Shekhar Varma (b. 1967)
- تیری تصویر کا جب دام لگایا جائےنام اس پر سے مصور کا ہٹایا جائےChandra Shekhar Varma (b. 1967)
- دنیا میں اک دن سکہ ایجاد ہواپھر اگلے ہی دن کاسہ ایجاد ہواChandra Shekhar Varma (b. 1967)
- سبھی صدیوں کو مل کر سوچنا ہےکہ اک لمحے کا من کیوں انمنا ہےChandra Shekhar Varma (b. 1967)
- شناور کو بچانا چاہیئے تھاندی کو ڈوب جانا چاہیئے تھاChandra Shekhar Varma (b. 1967)
- کہیں چندن مہکتا ہے کہیں کیسر مہکتا ہےیہ خوشبو ہے بزرگوں کی جو میرا گھر مہکتا ہےChandra Shekhar Varma (b. 1967)
- میں یوں ہی مسکرانے کے بہانے ڈھونڈ لیتا ہوںمیں کافر ہوں خدا کے در کبھی سجدہ نہیں کرتاChandra Shekhar Varma (b. 1967)
- یہ کب کہا ہے ہم نے سجدہ نہیں کریں گےتم جس کا چاہتے ہو اس کا نہیں کریں گےChandra Shekhar Varma (b. 1967)
- یہ مکرر اور یہ ارشاد زندہ بادشعر کو سمجھے بنا دی داد زندہ بادChandra Shekhar Varma (b. 1967)
- تجھے خود سے الگ کیسے کروں میںتجھے جب کھینچتا ہوں خود سے باہرChandra Shekhar Varma (b. 1967)
- ابھی تو فیصلہ باقی ہے شام ہونے دےسحر کی اوٹ میں مہتاب جاں کو رونے دےKabir Ajmal (1967–2020)
- اپنی انا سے بر سر پیکار میں ہی تھاسچ بولنے کی دھن تھی سر دار میں ہی تھاKabir Ajmal (1967–2020)
- افق کے آخری منظر میں جگمگاؤں میںحصار ذات سے نکلوں تو خود کو پاؤں میںKabir Ajmal (1967–2020)
- اک تصور بے کراں تھا اور میںدرد کا سیل رواں تھا اور میںKabir Ajmal (1967–2020)
- بجائے گل مجھے تحفہ دیا ببولوں کامیں منحرف تو نہیں تھا ترے اصولوں کاKabir Ajmal (1967–2020)
- بجھتی رگوں میں نور بکھرتا ہوا سا میںطوفان ننگ موج گزرتا ہوا سا میںKabir Ajmal (1967–2020)
- سیاہی ڈھل کے پلکوں پر بھی آئےکوئی لمحہ دھنک بن کر بھی آئےKabir Ajmal (1967–2020)
- شرار عشق صدیوں کا سفر کرتا ہوابجھا مجھ میں مجھی کو بے خبر کرتا ہواKabir Ajmal (1967–2020)
- کچھ تعلق بھی نہیں رسم جہاں سے آگےاس سے رشتہ بھی رہا وہم و گماں سے آگےKabir Ajmal (1967–2020)
- میں جسم و جاں کے کھیل میں بیباک ہو گیاکس نے یہ چھو دیا ہے کہ میں چاک ہو گیاKabir Ajmal (1967–2020)
- نئی زمین نئے آسماں سنورتے رہیںیہی ہے شرط تو پھر حرف حرف مرتے رہیںKabir Ajmal (1967–2020)
- وہ خواب طلب گار تماشا بھی نہیں ہےکہتے ہیں کسی نے اسے دیکھا بھی نہیں ہےKabir Ajmal (1967–2020)
- وہ موج ہوا جو ابھی بہنے کی نہیں ہےہم جانتے ہیں آپ سے کہنے کی نہیں ہےKabir Ajmal (1967–2020)
- ہجوم سیارگاں میں روشن دیا اسی کافصیل شب پر بھی گل کھلائے ہوا اسی کاKabir Ajmal (1967–2020)
- ہوا کی زد پہ چراغ شب فسانہ تھامگر ہمیں بھی اسی سے دیا جلانا تھاKabir Ajmal (1967–2020)
- جذبات میں جو میرے مقابل کھڑے ہوئےاحساس تب ہوا مرے بچے بڑے ہوئےFaizan Arif (b. 1967)
- حال دل صرف تمہیں ہم نے سنانے کے لیےکتنے الفاظ لکھے سارے زمانے کے لیےFaizan Arif (b. 1967)
- دعاؤں کے دیے جب جل رہے تھےمرے غم آنسوؤں میں ڈھل رہے تھےFaizan Arif (b. 1967)
- ظلم کی راہ میں دیوار ہوا کرتے تھےہم کبھی عزم کے کہسار ہوا کرتے تھےFaizan Arif (b. 1967)
- کچھ اہتمام سفر کا ضرور کرنا ہےکہ اس کے شہر سے ہو کر مجھے گزرنا ہےFaizan Arif (b. 1967)
- مرے گمان کی حد سے نکلنے والا تھاوہ مجھ سے پہلے ہی رستہ بدلنے والا تھاFaizan Arif (b. 1967)
- نئے شہروں کی جب بنیاد رکھناپرانے شہر بھی آباد رکھناFaizan Arif (b. 1967)
- ہوائیں گیت گاتی ہیںبدلتے موسموں کے انگنت قصے سناتی ہیںFaizan Arif (b. 1967)
- جو بن سنور کے وہ اک ماہ رو نکلتا ہےتو ہر زبان سے بس اللہ ہو نکلتا ہےAadil Rasheed (b. 1967)
- تجھ سے رشتہ نہ کوئی خاص شناسائی ہےپھر بھی اک عمر سے دل تیرا تمنائی ہےLatif Shah Shahid (b. 1968)
- تیری صورت سے آشنا ہوں میںیوں ہی پاگل نہیں ہوا ہوں میںLatif Shah Shahid (b. 1968)