کاش ایسا دیار آ جائے

Onkar Singh Vivek (b. 1965)

کاش ایسا دیار آ جائے

گلشنوں کی قطار آ جائے

کیا مزہ کشتیاں چلانے کا

جب ندی میں اتار آ جائے

اب یہ مظلوم جاگ اٹھے ہیں

ہوش میں تاجدار آ جائے

مشق سے جی چرا کے یہ خواہش

شاعری میں نکھار آ جائے

خواب میں بھی اگر دکھے پانی

پیاس کو کچھ قرار آ جائے

جیتنے کا جنوں نہ کم ہوگا

لاکھ حصے میں ہار آ جائے

آپ جیسے بڑوں کی محفل میں

کیا بھلا خاکسار آ جائے