عاجزی تو ہے نہیں گفتار میں
Onkar Singh Vivek (b. 1965)عاجزی تو ہے نہیں گفتار میں
کون پوچھے گا ہمیں دربار میں
نفسیاتی نقص ہے دوچار میں
ورنہ ہے سب کا عقیدہ پیار میں
سنگ رکھتا ہے اسے جو یہ گلاب
کچھ تو دیکھا ہوگا آخر خار میں
بارہا روتا ہے دل یہ سوچ کر
بن کٹے گا شہر کے وستار میں
پوچھنے آئے تھے میری خیریت
دے گئے غم اور وہ اپہار میں
میرؔ غالبؔ ذوقؔ سب کا شکریہ
رنگ کیا کیا بھر گئے اشعار میں
بیٹھا ہے پردیس میں لخت جگر
کیا خوشی ماں کو ملے تیوہار میں