ہم غبار رہ گزر
Parvez akhtar (b. 1966)ہم غبار رہ گزر
ہے یہ قصہ مختصر
سن زمیں کی سسکیاں
آسماں نیچے اتر
ایک اکیلی جان ہے
چار سمتوں میں بھنور
سو دکانیں کھل گئیں
اک خدا کے نام پر
آدمی خوش ہے بہت
آدمی کو مار کر
زندگی کا لطف لے
امتحانوں سے گزر
ذہن کی بیداریاں
اک مسلسل درد سر
آئے گی افتاد بھی
ایک دن افتاد پر
غیر سے رشتے بنا
صحن میں دیوار کر
واقعی ناراض ہوں
راستہ ہموار کر
مطمئن سے ہو گئے
آئنے کو توڑ کر
آفتیں ٹوٹیں بہت
اس دل نادار پر
لگ کبھی سینے سے لگ
کر کبھی حیران کر
آخرش جی ہی لئے
اپنے جی کو مار کر
اے خدا میرے خدا
راستہ آسان کر