کام کا بھی ٹھکانا نہیں ہے

Onkar Singh Vivek (b. 1965)

کام کا بھی ٹھکانا نہیں ہے

اور گھر میں بھی دانہ نہیں ہے

جانتے ہیں سزا ہی وہ دیں گے

جرم تو کچھ بتانا نہیں ہے

کہہ رہی ہے ہنک بادلوں کی

دھوپ نے منہ دکھانا نہیں ہے

خوں جگر کا جلائے بنا کچھ

رنگ شعروں میں آنا نہیں ہے

آزمائش میں رکھتے ہو کتنی

یار یہ دوستانہ نہیں ہے

گڑھ ہی لیں گے وہ سو سو بہانے

جن کو ملنا ملانا نہیں ہے

زیست میں حوصلوں نے ہمارے

دبدبہ غم کا مانا نہیں ہے