منہ پر تو کتنا رس گھولا جاتا ہے

Onkar Singh Vivek (b. 1965)

منہ پر تو کتنا رس گھولا جاتا ہے

پیچھے جانے کیا کیا بولا جاتا ہے

ہوتا تھا پہلے معیار کبھی ان کا

اب رشتوں کو دھن سے تولا جاتا ہے

مل جاتی ہے ایک نئی اچھا اس میں

من کو جتنی بار ٹٹولا جاتا ہے

مل جاتے ہیں سکھ دکھ دونوں ہی اس میں

جب یادوں کا بکسا کھولا جاتا ہے

آپ سیاست داں ہیں خوب سمجھتے ہیں

بدلا کیسے ہر دن چولا جاتا ہے

دھیان سبھی کا دیکھا خود پر تو جانا

چپ رہ کر بھی کتنا بولا جاتا ہے

ہر دم تو خاموشی اوڑھ نہیں سکتے

وقت ضرورت منہ بھی کھولا جاتا ہے