لطف کیا آئے گا شرافت میں
Onkar Singh Vivek (b. 1965)لطف کیا آئے گا شرافت میں
آپ اب آ گئے سیاست میں
تھی جو مصروفیت ہمیں تھوڑی
آپ بھی کب تھے یار فرصت میں
پھر سے تاریخ مل گئی اگلی
آج بھی یہ ہوا عدالت میں
آپ پوچھیں نہ تو ہی بہتر ہے
کتنے دھوکے ملے شرافت میں
ہو گئی موت سنتے ہیں کل بھی
ایک معصوم کی حراست میں
ہو گیا گفتگو سے اندازہ
کون رہتا ہے کیسی صحبت میں