کھلے سے چوک چوبارے نہیں ہیں
Onkar Singh Vivek (b. 1965)کھلے سے چوک چوبارے نہیں ہیں
نگر میں اب وہ نظارے نہیں ہیں
گماں توڑیں گے جلدی آسماں کا
پرندے حوصلہ ہارے نہیں ہیں
طلب ہے کامیابی کی سبھی کو
ہمیں اس دوڑ میں نیارے نہیں ہیں
بنا بیٹھا ہے جو اب شاہ اس نے
بھلا کس کس کے حق مارے نہیں ہیں
ہیں جتنی خواہشیں من میں بشر کے
گگن میں اتنے تو تارے نہیں ہیں
سبھی کو دیکھیے مت اک نظر سے
برے کچھ لوگ ہیں سارے نہیں ہے
انہیں بھاتی ہے آوارہ مزاجی
کہیں کیسے وہ بنجارے نہیں ہیں