اگر کچھ سرگرانی دے رہی ہے
Onkar Singh Vivek (b. 1965)اگر کچھ سرگرانی دے رہی ہے
خوشی بھی زندگانی دے رہی ہے
چلو مستی کریں خوشیاں منائیں
سدا یہ رت سہانی دے رہی ہے
بڑھاپے کی ہے دستک ہونے والی
خبر ڈھلتی جوانی دے رہی ہے
گزر آرام سے ہو پائے اتنا
کہاں کھیتی کسانی دے رہی ہے
پھلیں پھولیں نہ کیوں نفرت کی بیلیں
سیاست کھاد پانی دے رہی ہے
سدا سچائی کے رستے پے چلنا
سبق بچوں کو نانی دے رہی ہے
تخیل کی ہے بس پرواز یہ تو
جو غزلوں کو روانی دے رہی ہے