جتنے بھی سورج کے نیزے تھے نکیلے ہو گئے
saabir jauharii (b. 1965)جتنے بھی سورج کے نیزے تھے نکیلے ہو گئے
زندگی کی شاخ کے سب پھول پیلے ہو گئے
ہم نے ہونٹوں پر سجائے جب محبت کے گلاب
خون کے پیاسے ہمارے ہی قبیلے ہو گئے
وقت نے شاخوں سے اپنی کر دیا ان کو الگ
سبز پتے پیڑ کے جس وقت پیلے ہو گئے
قبر کی تاریکیاں کچھ بڑھ گئیں تو کیا ہوا
میری بیٹی کے تو سونے ہاتھ پیلے ہو گئے
کون جانے چل پڑی ہے باغ میں کیسی ہوا
وقت سے پہلے ہی سارے پھل رسیلے ہو گئے
آندھیاں حسرت سے اپنا سر پٹکتی رہ گئیں
بچ گئے وہ پیڑ صابرؔ جو لچیلے ہو گئے