جھگیوں کا حق دبانا آ گیا

Onkar Singh Vivek (b. 1965)

جھگیوں کا حق دبانا آ گیا

کوٹھیوں کو ظلم ڈھانا آ گیا

کہہ رہی ہے مسکراہٹ کھیت کی

دھان کی بالی میں دانہ آ گیا

دودھیا خوش ہے کہ بیٹے کو بھی اب

دودھ میں پانی ملانا آ گیا

فکر کچھ تو کم ہوئی ماں باپ کی

لال کو کھانا کمانا آ گیا

وہ سبھی رونق ہوئے دربار کی

ہاں میں جن کو سر ہلانا آ گیا

سانس کی بیماریاں بڑھنے لگیں

گاؤں میں کیا کارخانہ آ گیا

چھو ہی لیں گے آسماں کو ایک دن

پاؤں دھرتی پر جمانا آ گیا

کرتے کرتے مشق مصرع پر وویکؔ

ہم کو بھی مصرع لگانا آ گیا